پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

طارق فاطمی ،اعزازچوہدری اورانکی بیگمات نے اربوں روپے کاپلاٹ مفت لیا ، بھارت سمیت غیرملکی سفارتخانوں سے عطیہ وصولی کی جاتی ہے

datetime 16  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی و تجزیہ کار رئوف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری، ان کی بیگم کی این جی او اور طارق فاطمی اور ان کی بیگم کی این جی او نے سی ڈی اے سےمفت حاصل کردہ اربوں کا پلاٹ صرف تین لاکھ عطیہ کی رقم میں روٹس ملینیم کے مالک فیصل مشتاق کو دے دیا۔اپنے کالم میں انکشاف کرتے ہوئے رئوف کلاسرا نے لکھا ہے کہ انہوں نے سکینڈل فائل کیا کہ کیسے

سی ڈی اے سے اربوں روپے کا دس کنال کمرشل پلاٹ مفت لے کر آگے مفت میں روٹس ملینیم کے مالک فیصل مشتاق کو دے دیا۔ فیصل مشتاق نے پلاٹ لینے سے پہلے اعزاز چوہدری کی بیگم کو این جی او کے لئے تین لاکھ روپے عطیہ دیا۔ یوں ایک طرح سے اربوں روپے کا پلاٹ صرف تین لاکھ روپے عطیہ کی نذر ہو گیا؟اس طرح سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی بیگم این جی او کیلئے پاکستان میں قائم غیر ملکی سفارتخانوں سے چندہ اکٹھا کرتی رہی ہیں اور اس میں بھارتی سفارت خانہ سے بھی لئے گئے ڈالرز کا عطیہ بھی شامل ہے۔ اس سکینڈل کو تو نواز شریف نے سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی اس پر کوئی ایکشن لیا بلکہ اسی اعزاز چوہدری پر مقدمہ چلا کر جیل بھیجنے کی بجائے اسے امریکہ میں سفیر لگا کر بھیج دیا ہے کہ اس سکینڈل کو تو نواز شریف نے سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی اس پر کوئی ایکشن لیا بلکہ اسی اعزاز چوہدری پر مقدمہ چلا کر جیل بھیجنے کی بجائے اسے امریکہ میں سفیر لگا کر بھیج دیا ہے کہ جو جتنا بڑا ہاتھ دکھائے گا اسے بڑی پوسٹنگ ملے گی۔ جب نواز شریف میرے ایسے کالموں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ جن پر سکینڈلز فائل ہوتے ہیں تو انہیں مزید نواز کر امریکہ بھیجتے ہیں تو پھر ان کے وزیر کیسے یہ توقع رکھے بیٹھے ہیں کہ میرے ان کے حق میں کالم سے ان کی دنیا بدل جائے گی اور راتوں رات کو چمتکار ہو جائے گا؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…