پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

چاول کے کھیت کوفش فارم بناکرمچھلیاں پیداکی جاسکتی ہیں ،زرعی ماہرین

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چاول کے کاشت کاروں کو اب نئے تجربات کرنے چاہئیں جس سے وہ پیداواری لاگت کو بآسانی برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ کئی گنا زیادہ منافع بھی کما سکیں گے۔اس سلسلے میں انہوں نے فلپائن ،انڈونیشیا اور ویت نام جیسے ممالک کی مثال دی ہے جہاں جب چاول کی فصل کاشت کی جاتی ہے تو اسی کھیت کو فش فارم کی شکل دے کر اس میں مچھلیوں کی افزائش شرو ع کر دی جاتی ہے۔

چونکہ چاولوں کی نشوونما پانی کی وافر مقدار میں ہوتی ہےتوماہرین کے مطابق اس عمل کے تین فائدے ہوتے ہیں ۔پہلا فائدہ یہ ہے کہ مچھلیوں کا فضلہ فصل کے لئے کھاد کا کام دیتا ہے ۔دوسرا فائدہ یہ کہ چاول کی فصل پر جو کیڑے اور سنڈیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔وہ مچھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس طرح چاول کی فصل کیڑوں سنڈیوں سے ہونے والی نقصان سے محفوظ رہتی ہے اور تیسرا اور آخری فائدہ یہ ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو مچھلی بھی تیار ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح وہاں کا کاشتکار چاول کے ساتھ ساتھ مچھلی بھی مارکیٹ میں فروخت کرکےدگنا منافع کماتا ہے۔چھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس طرح چاول کی فصل کیڑوں سنڈیوں سے ہونے والی نقصان سے محفوظ رہتی ہے اور تیسرا اور آخری فائدہ یہ ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو مچھلی بھی تیار ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح وہاں کا کاشتکار چاول کے ساتھ ساتھ مچھلی بھی مارکیٹ میں فروخت کرکےدگنا منافع کماتا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق پاکستانی کاشتکار کو بھی اس طرح کے تجربات کرنے چاہئیں تاکہ آنے والے برسوں زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سالانہ ساٹھ لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کاشت ہوتا ہے اور اس کی سالانہ پیداوار 47.6ملین ٹن ہے۔ اس قیمتی فصل کی ایکسپورٹ سے پاکستان کو سالانہ 2ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…