پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

سانحہ لاہور میں شہید لڑکی کی اگلے ہفتے شادی تھی۔۔بازار سے چھوٹے بھائی کیلئے کیا خریدنے نکلی؟

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مال روڈ پر ہونے والے دھماکے نے ہنستے بستے کئی گھر اجاڑ دئیے ،دھماکے میں شہید ہونے والابینک آفیسر بلال امجد ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اپنی شادی کے کارڈ کی تقسیم جبکہ فاطمہ شاپنگ کیلئے گھر سے نکلے تھے، فاطمہ کا منگیترامریکہ میں مقیم تھا لیکن دونوں اپنے پیاروں کو روتا ہوا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق مال روڈ بم دھماکے

میں شہید ہونے والی جواں سالہ فاطمہ نشتر کالونی کے قریب واقع وحید برادرزکالونی کی رہائشی تھی جو اپنے چودہ سالہ بھائی کے ہمراہ شاپنگ اور بھائی کی سالگرہ کیلئے تحفہ لینے گھر سے نکلی تھی ۔ فاطمہ کی والدہ نے افسردہ لہجے میں بتایا کہ بیٹی نے کہا کہ امی روٹی بنا دو ،پھر کہا واپس آ کر کھاؤں گی اور بھائی کو لے کر چلی گئی۔ والدہ نے کہا کہ میری بیٹی ہم سے دور چلی گئی ،میں اسے کہاں سے ڈھونڈ کرلاؤں گی ، کب دہشتگردوں کو پکڑا جائے گا اور انہیں کب سزائیں دی جائیں گی ۔ اہل خانہ کے مطابق فاطمہ کی ایک ماہ بعد شادی تھی اور اس کا منگیتر آئندہ چند روز میں امریکہ سے پاکستان واپس آنے والا تھا۔دوسری طرف بم دھماکے میں شہید ہونے والا والدین کا اکلوتا بیٹا محمد بلال امجد پی آئی اے کالونی کا رہائشی تھی اور اسکی چند روز قبل ہی نجی بینک میں بطور اسسٹنٹ مینیجر ترقی ہوئی تھی ۔ بتایا گیا ہے کہ محمد بلال امجد کی 12مارچ کو شادی طے تھی اور بینک سکوائر سے ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد شادی کے کارڈ کی تقسیم کے لئے جارہا تھا کہ دھماکے کی زد میں آکر گھر والوں کو روتا ہوا دنیا سے چلا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…