جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

ٹرین میں سیٹ لینے کے لیے کیا کام کرتی تھی ؟ ودیا بالن نےبڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

datetime 2  فروری‬‮  2017 |

ممبئی (این این اائی)خواتین کے کردار پر مرکوز’’کہانی‘‘ اور’’ڈرٹی پکچرز‘‘ جیسی فلموں سے ایک الگ شناخت حاصل کرنے والی بالی وڈ کی اداکارہ ودیا بالن کہتی ہیں کہ ایک اداکار کے اندر اداکاری کی کچھ کوالٹیز قدرتی ہوتی ہیں اور اس کی اداکاری کسی نہ کسی شکل میں باہر آ ہی جاتی ہے۔فلم ’کہانی‘ میں ودیا بالن نے ایک حاملہ خاتون کا کردار کیا تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے

 

کہاکہ میں سینٹ زیویئرز کی طالبہ تھی اور چیمبور سے وی ٹی تک ہم لوکل ٹرین میں سفر کیا کرتے تھے۔ ہمارے گروپ کی لڑکیاں بہت نوٹنکی باز تھیں اور میں بھی انھیں میں سے ایک تھی۔انھوں نے بتایاکہ ہم ٹرین میں الگ الگ طرح سے مستی کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم بہت تھکے ہوتے تھے۔ جب بہت چھوٹے تھے تو دوسرے لوگوں کو سیٹ دینی پڑتی تھی۔ کئی بار تو سیٹ حاصل کرنے کے لیے میں حاملہ ہونے کی ایکٹنگ کرتی تھی اور اس بہانے سے اکثر مجھے سیٹ مل جایا کرتی تھی۔حال ہی میں ودیا بالن اداکار انوپم کھیر کے ’ایکٹنگ اسکول‘ گئی تھیں اور وہاں پر بات چیت کے دوران انھوں نے اپنے ایسے قصے شیئر کیے۔ودیا بالن کے قصے سننے کے بعد اداکار انوپم کھیر نے بھی ممبئی شہر میں اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’سٹرگل کے دوران میرے پاس اتنا کام تو ہوتا نہیں تھا اور اچھا کھانا کھانے کو نہیں ملتا تھا۔ دوستوں نے بھی بلانا بند کر دیا تھا۔انھوں نے کہاکہ ان دنوں میرا رنگ بہت صاف تھا اور میری داڑھی براؤن تھی تو میرے دوست ستیش کوشک اور سہاس کھانڈکے باندرا، کھار اور سانتا کروز کے علاقوں میں ہونے والی شادیوں کا پتہ کیا کرتے تھے کہ شادی کہاں اور کب ہو رہی ہے۔ ان دنوں مجھے ایک ڈرامے کے لیے سفید سوٹ پہننے کو ملا تھا اور اس ڈرامے کے بہت سے شوز کرنے کے بعد وہ سوٹ انھوں نے مجھے دے دیا تھا۔انوپم کھیر کہتے ہیں کہ میں اس سوٹ کو

نکالتا اور اس کے پہننے کے بعد اپنا نام تبدیل کر لیتا۔ جیسے سٹیون بریخت اور سٹیون بریخت بن کر میں اپنے دوستوں کے ساتھ آٹو میں بیٹھتا اور ہم شادی میں پہنچ جاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…