جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

دنیا میں صرف 8 شخصیات کی دولت 3 ارب 60 کروڑ انسانوں کی دولت کے برابر،وہ 8شخصیات کون ہیں؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

ڈیووس(آئی این پی )برطانوی فلاحی تنظیم آکسفیم کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں صرف 8 ارب پتی افراد اتنی زیادہ دولت کے مالک ہیں جتنی کہ 3.6 ارب انسانوں کے پاس ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی ادارے آکسفیم نے امیر اور غریب کے فرق پر تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق صرف 8 لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جو دنیا کے تین ارب ساٹھ کروڑ افراد کے برابر ہے۔ آکسفیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارتکاز دولت کی وجہ سے دنیا سے غربت کے خاتمے کی کوششیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ارب پتی ٹیکس چوری کرتے ہیں جبکہ غریبوں کو دی جانے والی مراعات کم کر دی جاتی ہیں۔ امیر، غریبوں کا استحصال کر کے امیر تر ہو رہے۔ رپورٹ کے مطابق عدم مساوات کی وجہ سے مغرب میں سیاسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں۔ برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات میں جیت اس کا ثبوت ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ رپورٹ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں پیش کیا گیا ہے، جہاں عالمی اقتصادی فورم کا 47 واں سالانہ اجتماع 17 جنوری سے شروع ہو رہا ہے۔ آکسفیم کے مطابق عدم مساوات کے خلاف عوامی غم و غصہ بڑھنے کا عمل جاری رہے گا اور سیاسی نظام کو تہ و بالا کر دینے والے اْس طرح کے واقعات زیادہ تعداد میں دیکھنے میں آئیں گے۔آکسفیم نے اپنی رپورٹ کی تیاری میں 2016ء میں جاری کی گئی ارب پتیوں کی فہرست سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اس فہرست کے مطابق دنیا کے امیر ترین انسان مائیکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس ہیں، جن کی دولت کا اندازہ 75 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ دیگر امیر ترین شخصیات میں انڈی ٹیکس کے بانی امانسیو اورٹیگا، وارن بفٹ، ایمیزون کمپنی کے سربراہ جیف بیزوس، فیس بْک کے بانی مارک زکربرگ، اوریکل کمپنی کے مالک لیری ایلیسن اور نیویارک کے سابق میئر بلْوم برگ بھی شامل ہیں۔آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ دنیا میں گربت اور امارت میں تضاد خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔

دنیا کے ہر دس انسانوں میں سے ایک کو محض دو ڈالر روزانہ سے بھی کم میں زندگی بسر کرنا پڑ رہی ہے جو شرمناک ہے۔ یہ ہمارے معاشروں میں شگاف ڈال رہی ہے اور جمہوریت کی جڑیں کمزور کر رہی ہے۔غربت کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل اس تنظیم کا یہ جائزہ سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام ڈیووس میں پیش کیا گیا ہے، جہاں عالمی اقتصادی فورم کا سینتالیس واں سالانہ اجتماع سترہ جنوری منگل کے روز سے شروع ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…