جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

خامنہ ای کو اپنے اعمال کی جواب دہی کا وقت آگیا،امریکہ کا اعلان

datetime 15  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی) امریکی کانگریس میں پاسداران انقلاب اور اخوان پرپابندیوں کے نئے بل پیش کردیئے گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کانگریس میں ری پبلیکن رکن ٹیڈ کروز، ایوان نمائندگان میں قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل ماکویل اور سینٹر ماریو بالارٹ نے کانگریس میں دو نئے مسودہ ہائے قانون پیش کیے ہیں جن میں محکمہ خارجہ کو ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے ٹرائل کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان قانونی مسودوں میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون بنیاد پرست اور تشدد پر اکسانے والے گروپ ہیں۔ لہذا انہیں دہشت گرد قرار دے کران پر پابندیاں عاید کی جائیں۔

کانگریس میں پیش کردہ مسودہ قانون کی تفصیلات سینٹر ٹیڈ کروز نے اپنی اپنی ویب سائیٹ پر بھی پوسٹ کی ہیں۔ ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون اور پاسداران انقلاب مغرب میں قتل وغارت گری جیسے جرائم کو فروغ دینے میں ملوث رہے ہیں۔ امریکا کو ان دونوں کے خلاف ہرقسم کی قانونی چارہ جوئی کرنے، ان کا ناطقہ بند کرنے، ان کے مالی سوتے خشک کرکے دہشت گردی کا ذریعہ بننے والوں کا احتساب کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے۔امریکی سینٹر نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارہ اور فوج قرار دینے کی سفارش کی ہے جب کہ سینٹر ماریو بالارٹ نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ امریکا میں بنیاد پرست سیاسی اسلام کے خلاف قانونی ترامیم کے لیے اقدامات کا آغاز ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ان قانونی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے عناصر کی جڑیں کاٹنے میں آسانی ہوگی۔

امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے الزام عاید کیا کہ سبکدوش ہونے والے صدر باراک اوباما کے دور میں دنیا بھر میں بنیاد پرست اسلام پسند گروپوں کو تقویت حاصل کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ صدر باراک اوباما امریکی قومی سلامتی اور امریکی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بنیاد پرست عناصر اور گروپوں کو سراٹھانے کا موقع ملتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے جرائم سے پہلو تہی اختیار کیے جانے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عالمی تنازعات کے حل کے لیے پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے ساتھ نرمی برتنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کو ان کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں اپنے اعمال کا حساب دینے کا موقع دیا جائے۔

سینیٹر ٹیڈ کروز کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا بنیادی کردار اور ذمہ داری ایرانی فوج کو مضبوط بناتے ہوئے اسے دہشت گردی کے لیے تیار کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی وزارت خزانہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام القدس یونٹوں کو دہشت گرد گروپ قرار دے چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…