جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

سرکاری کیلنڈر سے گاندھی کی تصویر ہٹا کر کس کی تصویر لگا دی گئی ، جان کر یقین نہیں کریں 

datetime 14  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی( آن لائن)انڈیا کی حکومتی صنعتوں میں کام کرنے والے افراد نے سرکاری کیلنڈر پر مہاتما گاندھی کی جگہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تصاویر لگانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔کھڈی اور ویلج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) کے سٹاف کا کہنا ہے کہ انھیں اس فیصلے سے ‘بہت تکلیف ہوئی ہے۔کے وی آئی سی کا کہنا ہے کہ انھوں نے مودی کی تصاویر کو اس لیے استعمال کیا کیونکہ انڈین وزیرِ اعظم ویلج انڈسٹریز کے بڑے حامی ہیں۔مہاتما گاندھی برصغیر میں برطانوی حکومت کے خلاف بطور احتجاج کاٹن کی بنی ہوئی کھڈی استعمال کیا کرتے تھے۔کے وی آئی سی کا کہنا ہے کہ وہ روایتی طور پر سرکاری کیلنڈروں اور سٹیشنری پر مہماتما گاندھی کی تصاویر استعمال کرتا ہے۔
کیلنڈر میں گاندھی کو شامل نہ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے غصہ پیدا ہوا ہے، باوجود اس کے کہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی اور ان کی کبھی بھی جگہ نہیں لے سکتا ہے۔ممبئی میں واقع کے وی آئی سی ہیڈ کوارٹرز میں کچھ ورکرز نے جمعرات کو نئی سٹیشنری کو استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے خاموش احتجاج کیا۔ان کا مزید کہنا تھا ‘ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو کیلنڈروں اور ڈائریوں میں کیوں جگہ نہیں دے گئی؟ کیا گاندھی کھڈی کی صنعت کے لیے مزید اہمیت نہیں رکھتے۔؟
دوسری جانب کے وی آئی سی نے نئے کیلنڈر کا دفاع کیا ہے جس میں مودی کو گاندھی کی تقلید کرتے ہوئے پرانے زمانے کے پہیے میں روئی کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن نے مودی کی تصاویر کو تصاویر کو استعمال کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ‘کھڈی کے بنے کپڑوں کے سب سے بڑے برینڈ ایمبیسڈر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…