جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

شام میں روسی افواج کی بڑی نقل و حرکت،حیرت انگیزاعلان کردیاگیا

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

ماسکو (آئی این پی )روس نے کہا ہے کہ وہ شام کی سمندری حدود میں تعینات اپنے ایئر کرافٹ کیریئر اور کچھ دیگر جنگی جہازوں کو واپس بلا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی فوج کے جنرل اسٹاف چیف جنرل والاری گراسیموف نے جمعے کے دن کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے فیصلے کے تحت شام کے لیے تعینات روسی فوج کی تعداد میں کمی کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روس کا واحد ایئر کرافٹ کیریئر ایڈمرل کوزنیٹسوو سب سے پہلے وطن واپس جائے گا۔ اس پیش رفت کو شام سے روسی افواج کے انخلا کے تناظر میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماسکو حکومت شامی صدر بشار الاسد کی حامی ہے جبکہ باغیوں اور دمشق حکومت کے مابین سیز فائر معاہدے کے بعد انتیس دسمبر کو پوٹن نے روسی فوج کو حکم دیا تھا کہ شام میں اپنے دستوں اور عسکری سازوسامان کی تعداد میں کمی کر دے۔اقوام متحدہ کے مطابق روس کی جانب سے یہ اعلان ترکی اور روس کی شام میں جاری جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔یہ بحری جہاز اکتوبر سے شام کے ساحلی علاقوں میں شامی صدر بشار الاسد کے مخالفین کے خلاف اپنی خدمات سر انجام دے رہا تھا۔روس نے شامی حکومت کے باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں روس اس سے پہلے ہی اپنی فوج کی شام سے واپسی کا اعلان کر چکا ہے۔شام میں روسی فوج کے کمانڈر اینڈری کرتاپولوو کا کہنا ہے کہ فوجوں کے انخلا کا کام مکمل ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے پاس شام میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کی کافی دفاعی صلاحیت ہے۔ولادیمر پوتن نے حلب سے باغیوں کے نکل جانے کے بعد 29 دسمبر کو شام سے روسی افواج کے انخلا کا حکم دیا تھا۔ستمبر 2015 میں روس کی شام کی خانہ جنگی میں مداخلت سے اس جنگ میں شامی حکومت کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور اس کے بعد حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے سے کئی علاقے چھڑوائے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…