کیلی فورنیا (این این آئی) امریکہ کی مختلف ریاستوں میں موجود مساجد کو کیلیفورنیا سے دھمکی اور نفرت آمیز خطوط موصول ہوئے جن میں مسلمانوں کو امریکہ چھوڑنے یا پھر نسل کشی برداشت کرنے کی دھمکی دی گئی۔کیلی فورنیا ، اوہائیو ،مشی گن، روڈ آئی لینڈ ، انڈیانا،جارجیا اور کولاراڈو کی مساجد کو موصول ہونے والے نفرت انگیز خطوط پر کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کی مہر لگی ہوئی تھیں۔
لاس اینجلس پولیس نے دھمکی آمیز خطوط سے متعلق رپورٹ میں بتایا کہ خط جرم کے دائرے میں نہیں آتے یہ ایک شیطانی حرکت ہے، تاہم ان خطوط دھمکی کہا جا سکتا ہے۔ہاتھ سے لکھی گئی تحریر کی فوٹو کاپی والے خطوط میں مسلمانوں کیلئے نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی گئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد مسلمانوں کا ٹھیک ایسا حشر کیا جائیگا جیسا ہٹلر نے یہودیوں کا حشر کیا تھا۔
امریکا کی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم اسلامک ریلیشنز نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن(ایف بی آئی) سے اس معاملے پر سوالات کیے تھے، جس کے جواب میں ایف بی آئی نے بتایا کہ خطوط میں دی گئی دھمکیاں خطرناک ہیں، دھمکیوں کی کوئی خاص تحقیق نہیں کی جاسکی تاہم اس معاملے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ریاست روتھ آئی لینڈ کی مقامی پولیس کے مطابق مسجد الکریم کو دھمکی آمیز خط ملنے کے بعد انہوں نے اپنا گشت بڑھادیاروتھ آئی لینڈ اسلامک سینٹر کے فیصل ایلانساری نے بتایا کہ خطوط ملنے کے بعد انہیں محسوس ہوتا ہے کہ نفرت کی لہر ان کے دروازے تک آگئی ہے۔دھمکی آمیز خطوں کو واپس اسی ایڈریس پر بھیج دیا گیاجہاں سے وہ آئے تھے ۔دھمکی آمیز لفافے لاس اینجلس کے مضافات سے بھیجے گئے تھے، لفافوں پر درج ایڈریس لاس اینجلس یا سانتا کلاریتا سے 30 میلوں کی مسافت پر ہے۔
اسلامک سینٹر کلیوی لینڈ کے صدر شاہد عبدالکریم کے مطابق انہیں موصول ہونے والے ایک خط میں بھیجے جانے والے ایڈریس میں مسلم نام رضا خان بھی شامل تھا، خط بھیجنے والے شخص کو مسلمانوں کی ثقافت کا بھی تھوڑا بہت علم تھا۔امن امان قائم کرنے والے علاقائی لوگوں پر مشتمل لاس اینجلس کے محکمے شیرف کے اہلکار مائیک ابدین کے مطابق لفافوں پر لکھے گئے نام جھوٹے ہیں۔
پولیس اور اسلامی تنظیموں کے مطابق لاس اینجلس، فریسنو اور سان ہوزے سمیت کیلی فورنیا کی 6 مختلف مساجد کو دھمکی آمیز خط ملے ۔مشی گن، ڈینور، این آربر، سواناہ، جارجیا اور انڈیانا کی اسکولوں سے منسلک مساجد کو بھی خطوط ملے۔
دوسری جانب نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے اس معاملے پرکوئی بات نہیں کی،نومنتخب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کہیں کوئی سپورٹر کسی کو ہراساں کر رہا ہے تو اس عمل کو ختم ہونا چاہئے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 27 نومبر 2016 کو بھی امریکی ریاست کیلی فورنیا کی 3 مساجد کو دھمکی آمیز خط موصول ہوئے تھے، جس کے بعد شہری حقوق کی تنظیم نے مساجد کی سیکیورٹی سخت کردی تھی۔
امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکا میں مسلمانوں کے خلاف جرائم اور نفرت میں اضافہ دیکھا گیا امریکی صدارتی انتخابات کے ایک ہفتے بعد ہی یونیورسٹی کی باحجاب مسلمان طالبات پر حملے کیے جانے کے واقعات پیش آئے تھے، سان ڈیگو اور کیلی فورنیا کی باحجاب طالبات پر حملے کرکے ان کے حجاب اتارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
مسلمانوں کا وہ حشر کریں گے جو ہٹلر نے یہودیوں کا کیا تھا‘‘ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد مسلمانوں کو یہ پیغام کس نے دیا؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟
-
پنجاب، کے پی، بلوچستان، آزاد کشمیر، جی بی میں بارشوں اور سیلاب کا الرٹ



















































