ہوانا(آن لائن)کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاستروطویل علالت کے بعد 90سال کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ 1959سے 1976تک کیوبا کے وزیر اعظم رہے اور 1976سے 2008 تک کیوبا کے صدر رہے ۔کیمونسٹ رہنما فیڈل کاسترو نے 2008میں اقتدار اپنے بھائی کو سونپنے سے پہلے کیوبا پر پچاس سال تک حکمرانی کی ۔ ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 600 سے زائد ناکام قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنے والی اور دس امریکی صدور کو بدلتے ہوئے دیکھنے والی تاریخ ساز شخصیت ، کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو آج90 برس کی عمر میں چل بسے۔کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو کو اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کا ایک اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔
کیوبا کے انقلاب کی روح رواں فیڈل کاسترو نے دس برس قبل اقتدار اپنے چھوٹے بھائی راول کاسترو کو منتقل کر دیا تھا۔بیس جولائی کو امریکا اور کیوبا ہوانا اور واشنگٹن میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولے۔1961 میں سرد جنگ کے دور میں امریکا نے کیوبا سے سفارتی تعلقات منقطع کر دئیے تھے۔طویل العمری اور صحت کے مسائل کی وجہ سے فیڈل کاسترو نہ صرف سگار پینا ترک کر چکے تھے بلکہ وہ عوامی منظر نامے پر بھی کم ہی نظر آتے تھے، وہ اپنی قوم کے ایک رہنما اور ہیرو تصور کیے جاتے ہیں۔فیڈل کاسترو نے جب سن انیس سو تریپن میں مونکاڈا ملٹری بیرکس پر حملے میں شرکت کی تھی تو تب کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ نوجوان ملکی تاریخ کی ایک اہم سیاسی شخصیت بن کر ابھرے گا۔ تب چھبیس سالہ وکیل کاسترو کو اس ناکام حملے میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کے کئی باغی ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن کاسترو کیوبا کے آمر حکمران فلخینسیو باتیتسا کی فورسز سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
اس واقعے کے چھ برس بعد جلا وطنی کی زندگی ترک کرتے ہوئے کاسترو ایک مرتبہ پھر ہوانا میں داخل ہوئے، وہ اس وقت صرف بارہ گوریلا جنگجووں کے ساتھ ایک بڑے مشن پر تھے۔ کمیونسٹ کاسترو پہلی مرتبہ اس وقت منظر عام پر آئے جب انہوں نے گوریلا کارروائی کے ذریعے باتیتسا اور ان کی اسی ہزار کی فوج کو شکست سے دوچار کر دیا۔سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں کیوبا میں کاسترو کی اس اچانک اور غیر متوقع کامیابی نے کمیونزم کو امریکا کے سر پر لا کھڑا کیا تھا۔ اسی خوف کے باعث امریکی خفیہ ایجنسی اور کیوبا کے جلا وطن شہریوں کے ایک حلقے نے کاسترو کو ہلاک کرنے کے کئی منصوبے بنائے لیکن تمام ناکام رہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ فابیان ایسکلانتے کے مطابق کاسترو کو کم ازکم 634 مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
کاسترو نے نصف صدی تک کیوبا پر حکمرانی کی اور اس دوران انہوں نے سن انیس سو انسٹھ میں اپنے ہی ایک گوریلا کمانڈو ہوبر ماتوس کو بیس برس کی جیل کی سزا بھی سنائی۔ وہ کیوبا میں منحرفین کو سخت سزائیں دینے سے کبھی نہیں چوکتے تھے۔ کاسترو کے مخالفین انہیں ایک جابر آمر کے طور پر بھی یاد کرتے ہیں۔اپنے دور اقتدار میں کاسترو نے لاطینی امریکا میں بائیں بازو کے گوریلا فائٹرز کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے ایسے ملکوں میں بھی جنگجو روانہ کیے، جہاں سرد جنگ کے اثرات شدید ہو گئے تھے۔ اس دور میں کاسترو نے کمیونزم کی حمایت کی خاطر انگولا، ایتھوپیا، کانگو، الجزائر اور شام میں مجموعی طور پر تین لاکھ چھیاسی ہزار دستے روانہ کیے تھے۔ کاسترو ساٹھ کی دہائی میں ہی دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں اور انفرادی سطح پر مزاحمت کرنے والوں کے ہیرو بن چکے تھے۔
سابق صدر اورعظیم انقلابی رہنما انتقال کر گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟
-
پنجاب، کے پی، بلوچستان، آزاد کشمیر، جی بی میں بارشوں اور سیلاب کا الرٹ



















































