جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

تمام مسائل کا حل،محمودخان اچکزئی حیرت انگیزفارمولہ سامنے لے آئے

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بہت کچھ اور بہت جلدی کرنا ہوگا ،موجودہ حالات میں محتاط رہنا اور دہشت گردی سے جان چھڑانی ہوگی پشتون اور بلوچ کو ان کے ساحل و وسائل پر آئینی گارنٹی دی جائے تو حالات پر قابوپایاجاسکتا ہے ،عمران کے طریقہ احتجاج پر اعتراض ہے، ہر الزام پر کوئی استعفیٰ نہیں دے سکتا،افغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں،

جو یہاں پیدا ہوئے ہیں ان کو یہاں رہنے کا حق دیا جائے، وزیراعظم نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ،جس نے افغانستان نے نہیں دیکھا وہ یہاں رہنے کا حق حاصل ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی ایک بہت بڑا بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے ، 9 ٗ11 کے بعد ہمارے لئے جو مسائل اور حالات پیدا کئے گئے ہیں ہمیں موجودہ حالات میں محتاط رہنا اور اس دہشت گردی سے جان چھڑانی ہوگی، ہمیں جنگ میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے،

دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے بہت کچھ اور بہت جلدی کرنا ہوگا ،سی پیک پر تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے اور جس طرح تحفظات اور تضادات پائے جارہے ہیں ان کو ختم کیا جائے، سی پیک کے مسئلہ پر ہمسایہ ممالک کو بھی شامل کرایا جائے، افغانستان اور ایران کے شامل ہونے سے ہمارے لئے آسانیاں پیدا ہونگی اور خاص کر افغانستان سے ہمیں 8 راستے ملیں گے جو سنٹرل ایشیاء تک روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے، گوادر کو چار بہار اور بندرعباس سے ملانے سے ہمیں کہیں زیادہ مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں واضح اعلان کیا تھا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ پر کام شروع کیاجائے گا،

ہم نے نوازشریف کو بتایا کہ سی پیک کے مسئلہ پر خیبرپختونخوا ، بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کیساتھ ساتھ ٹیکنیکل افراد کو بھی شامل کیا جائے جو اس معاملے کو سمجھیں اور ان پرجن کو اعتراضات اور تحفظات ہیں ان کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کی محکوم اقوام کو ان کے وسائل پر حق نہیں دیاجارہا، پشتون اور بلوچ کو ان کے حقوق پر آئینی گارنٹی دی جائے تو حالات پر قابو پایاجاسکتاہے ،

موجودہ حالات میں سب کو ملکر کام کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں، ایسا ادارہ ہونا چاہئے جو سب کا احتساب کرے ،صرف سیاستدانوں کا احتساب کیوں؟ ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہئے ،اگر پرانی روایت ہوتی تو عمران خان صوبائی حکومت نہیں بناسکتے ،ہر الزام پر کوئی استعفیٰ نہیں دے سکتا، عمران خان کے طریقہ احتجاج پر اعتراض ہے، قطر ی شہزادہ کا معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت ہی فیصلہ کرے گی ۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…