ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

تمام مسائل کا حل،محمودخان اچکزئی حیرت انگیزفارمولہ سامنے لے آئے

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بہت کچھ اور بہت جلدی کرنا ہوگا ،موجودہ حالات میں محتاط رہنا اور دہشت گردی سے جان چھڑانی ہوگی پشتون اور بلوچ کو ان کے ساحل و وسائل پر آئینی گارنٹی دی جائے تو حالات پر قابوپایاجاسکتا ہے ،عمران کے طریقہ احتجاج پر اعتراض ہے، ہر الزام پر کوئی استعفیٰ نہیں دے سکتا،افغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں،

جو یہاں پیدا ہوئے ہیں ان کو یہاں رہنے کا حق دیا جائے، وزیراعظم نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ،جس نے افغانستان نے نہیں دیکھا وہ یہاں رہنے کا حق حاصل ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی ایک بہت بڑا بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے ، 9 ٗ11 کے بعد ہمارے لئے جو مسائل اور حالات پیدا کئے گئے ہیں ہمیں موجودہ حالات میں محتاط رہنا اور اس دہشت گردی سے جان چھڑانی ہوگی، ہمیں جنگ میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے،

دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے بہت کچھ اور بہت جلدی کرنا ہوگا ،سی پیک پر تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے اور جس طرح تحفظات اور تضادات پائے جارہے ہیں ان کو ختم کیا جائے، سی پیک کے مسئلہ پر ہمسایہ ممالک کو بھی شامل کرایا جائے، افغانستان اور ایران کے شامل ہونے سے ہمارے لئے آسانیاں پیدا ہونگی اور خاص کر افغانستان سے ہمیں 8 راستے ملیں گے جو سنٹرل ایشیاء تک روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے، گوادر کو چار بہار اور بندرعباس سے ملانے سے ہمیں کہیں زیادہ مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں واضح اعلان کیا تھا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ پر کام شروع کیاجائے گا،

ہم نے نوازشریف کو بتایا کہ سی پیک کے مسئلہ پر خیبرپختونخوا ، بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کیساتھ ساتھ ٹیکنیکل افراد کو بھی شامل کیا جائے جو اس معاملے کو سمجھیں اور ان پرجن کو اعتراضات اور تحفظات ہیں ان کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کی محکوم اقوام کو ان کے وسائل پر حق نہیں دیاجارہا، پشتون اور بلوچ کو ان کے حقوق پر آئینی گارنٹی دی جائے تو حالات پر قابو پایاجاسکتاہے ،

موجودہ حالات میں سب کو ملکر کام کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں، ایسا ادارہ ہونا چاہئے جو سب کا احتساب کرے ،صرف سیاستدانوں کا احتساب کیوں؟ ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہئے ،اگر پرانی روایت ہوتی تو عمران خان صوبائی حکومت نہیں بناسکتے ،ہر الزام پر کوئی استعفیٰ نہیں دے سکتا، عمران خان کے طریقہ احتجاج پر اعتراض ہے، قطر ی شہزادہ کا معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت ہی فیصلہ کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…