جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

ایران کا رواں سال میں دوسری بار ’’ بھاری پانی ‘‘ کی مقررہ حد سے تجاوز ۔۔ بھاری پانی کہاں استعمال کیا جاتا ہے ؟ عالمی ادارے کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نیویارک (آئی این پی)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی ( آئی اے ای اے)نے کہا ہے کہ ایران نے رواں سال دوسری باربھاری پانی کی مقررہ حد سے تجاوزکیا ہے ، اس حد پر چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے پر معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق ریپبلکن جماعت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے کے ایک دن بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں جوہری توانائی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی اے ای اے) نے کہا کہ جنوری کو جوہری معاہدے طے پانے کے بعد تہران نے ایک بار پھر بھاری پانی کی 130 میٹرک ٹن کی حد کو پار کیا ہے۔بھاری پانی ان ری ایکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ایک قابل ذکر مقدار میں پلوٹونیم پیدا کر سکتے ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار نہایت اہم مواد ہوتا ہے۔جوہری توانائی کے نگران عالمی ادارے نے کہا کہ تہران نے اس مواد کی 130.1 ٹن مقدار کو مبینہ طور پر اسٹاک کیا ہے جو ایران کے اراک جیسی مکمل نا ہونے والی (جوہری) تنصیبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران زائد بھاری پانی کو برآمد کرنے کے لیے اقدام کر رہا ہے۔ٹونر نے کہا کہ یہ بات مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ ایران نے اس کو چھپانے کی نا تو کوشش کی ہے، اور نا ہی آئی اے ای اے سے چھپانے کی کوشش کی ہے جو کچھ یہ کر رہا ہے۔ جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری توانائی کے نگران ادارے نے منگل کو اس زائد مواد کی تصدیق آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو کی طرف سے ایران کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اس بارے میں “تحفظات کے اظہار” کے ایک ہفتے بعد کی ہے۔جب ایران نے فروری میں بھاری پانی کی 130.9 میٹرک ٹن کی حد پار کی تو عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے زیادہ تنقید نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…