پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ہم اس کام میں پاکستان اور چین سے بہت پیچھے ہیں تو زرا مہربانی کریں کہ ۔۔۔ بھارتی وزارت دفاع نے کسے خط کھا ؟ دھماکے دار خبر آگئی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2016 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ غیرملکی کمپنیاں بھارت میں لڑاکا طیارے بنائیں تو وہ ان سے سینکڑوں طیارے خریدنے کو تیار ہیں۔فوری طور پر 200 طیاروں کی کمی کا سامنا ہے اور اسے فوراً پورا کرنے کی جانب دیکھ رہے ہیں،بھارتی فضائیہ کو اس وقت 45 آپریشنل سکواڈرنز کی ضرورت ہے لیکن اس وقت ان کی تعداد صرف 32 ہے اور ان کے پاس پاکستان اور چین کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی فضائیہ کے ترجمان نے بتایاکہ بھارت میں بنائے جانے والے 200 انجن طیاروں کی خریداری کا معاہدہ 300 تک بھی ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے سویت دور کے جہازوں کو بالکل ختم کر دیا ہے اور اس معاہدے سے 13 سے 15 کھرب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں اور یہ بھارت میں جنگی طیاروں کی اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہو گا،بھارتی فضائیہ کے ایک افسر نے ’’میک ان انڈیا‘‘ منصوبے کے تحت منعقدہ تقریب میں کہا کہ فوری طور پر 200 طیاروں کی کمی کا سامنا ہے اور اسے فوراً پورا کرنے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔اس منصوبے کے تحت غیر ملکی طیارہ ساز کمپنیاں بھارتی کمپنیوں کی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ساتھ بھارت میں طیارے طیار کریں گی،حکومتی ذرائع کا کہناتھا کہ بھارتی وزارت دفاع نے مختلف کمپنیوں کو یک انجن لڑاکا طیارے کی طیاری کیلئے بھارت میں کارخانہ قائم کرنے کیلئے خطوط لکھے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ہم بھارت میں طیاروں کی تیاری کیلئے کارخانے لگانے میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی توقعات کو پرکھنے کی کوشش کر رہے ہیں،بھارتی فضائیہ کو اس وقت 45 آپریشنل سکواڈرنز کی ضرورت ہے لیکن اس وقت ان کی تعداد صرف 32 ہے اور وائس چیف ائیرمارشل بی ایس دھاینا نے پارلیمینٹ کی کمیٹی برائے دفاع کو بتایا کہ ان کے پاس پاکستان اور چین کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…