اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہدری منصوبہ پر پاکستان کا شاندار سیکورٹی نظام بھارت نے واویلا مچانا شروع کر دیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاک فوج اور حکومت کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے کی زبر دست سیکیورٹی پر بھارتی میڈیا نے واویلاشروع کردیاٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی راہداری منصوبے پر حملے کی پیش نظر پاکستان نے اس منصوبے کی سیکیورٹی پر 14ہزار 503سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ منصوبے پر 7ہزار 36چینی کام کر رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمان کے سوال پر دی جانے والی تحریری معلومات میں کہا گیا ہے کہ 6ہزار 364سیکیورٹی اہلکار پنجاب میں ،3ہزار 134بلوچستان میں ،2ہزار 654سندھ میں ،1ہزار 912خیبر پختونخواہ میں اور 439اسلام آباد میں تعینات ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے علیحدگی پسند بلوچوں کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے جبکہ طالبان کے گروہوں کی جانب سے بھی ماضی میں چینی شہریوں کو مغوی بنا یا جا چکا ہے۔اکنامک کوریڈور کو پاکستان میں گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک کا اکنامک ڈھانچہ مزید بہتر ہو گا اس لیے یہ منصوبہ مخالفین کی نگاہوں کا مرکزبنا ہوا ہے۔پاک چین اکنامک کوریڈور کے 330ذیلی منصوبوں میں سے صرف 8منصوبے بلوچستان میں ہیں جہاں بلوچ علیحدگی پسند اس منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں۔بھارت بھی اقتصادی راہداری منصوبے کو اپنے لیے سیکیورٹی چیلنج تصور کر رہا ہے کیونکہ یہ منصوبہ آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے جموں کے قریب سے ہو کر گزرے گا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران میں بھارت کے تعاون سے بننے والی چاہ بہار پورٹ کے قریب ہونے کی وجہ سے گوادر پورٹ کی اہمیت پاکستان کے لیے مزید بڑھ گئی ہے۔چاہ بہار منصوبے سے بھارت افغانستان کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے گا۔واضح رہے کہ اقتصادی راہدری منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھارت سمیت مختلف دشمن کام کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں کبھی بھارتی حکومت اور کبھی بھارتی میڈ یا اکنامک کوریڈور منصوبے پر واویلا کرتے رہتے ہیں ،اب پاک فوج اور حکومت کے تعاون سے اس منصوبے کی زبردست سیکیورٹی پر بھی بھارت میںآوازیں اٹھ رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…