منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک نے خود کا رٹریکنگ فیچر متعارف کرا دیا

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

نیویارک ….. سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر درجنوں تصاویر اپ لوڈ کرکے ہر ایک کو ٹیک کرنا کافی اکتا دینے والا کام ثابت ہوتا ہے اور اب لگتا ہے کہ اس سوشل نیٹ ورک کو بھی صارفین کی اس تکلیف کا احساس ہوگیا ہے۔

جی ہاں فیس بک نے ایک نیا فیچر متعارف کرادیا ہے جس کے تحت ایک ایسا آٹومیٹک نظام کام کرے گا جو صارف کے دوستوں کے چہرے خودکار طور پر شناخت کرکے انہیں تصاویر ٹیگ کردے گا۔

ڈیپ فیس نامی یہ اللگوردم بالکل اسی طرح چہروں کی درست شناخت کرتا ہے جیسے انسان کرتے ہیں اور پھر صارف کو ٹیگ کی سفارش کرتا ہے جو وہ قبول یا مسترد کرسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی گزشتہ سال مارچ میں سب سے پہلے سامنے آئی تھی تاہم فیس بک نے اب اسے ابتدائی طور پر محدود صارفین کے لیے خودکار ٹیگنگ ٹول کے طور پر متعارف کرائی ہے۔

اس سافٹ ویئر کی خوبی یا خامی یہ ہے کہ یہ کسی بھی تصویر میں سے آپ کا چہرہ شناخت کرسکتا ہے چاہے آپ کسی کنسرٹ یا سیاسی جلوس کے ہجوم میں کہیں گم ہی کیوں نہ ہو۔

یہ ٹیکنالوجی فیس ڈاٹ کام نامی کمپنی کی تیار کردہ ہے جسے فیس بک نے 2012 میں خرید لیا تھا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اب یہ آپشن مختلف صارفین کے اکاﺅنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز میں آنا شروع ہوگیا ہے تاہم فی الحال محدود تعداد میں ہی افراد اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

درحقیقت فیس بک کے لیے ایک ٹیگ فوٹو بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کسی تصویر پر جتنا رابطہ بڑھے گا اتنی ہی اس سائٹ کی انگیج منٹ کو بھی فائدہ ہوگا اور پیسے بنانے کی صلاحیت بھی بڑھ جائے گی۔

اور اس نئے فیچر کی خاص بات ہی یہ ہے کہ آپ کی پرائیویسی میں ٹیگنگ کی سیٹنگ میں اگر فرینڈز کو ٹیگ کرنے کی اجازت حاصل ہے تو آپ کی کوئی بھی تصویر ان کی ٹائم لائن پر لوڈ ہوتے ہی آپ کو ٹیگ ہوجائے گی۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…