اسلام آباد(این این آئی)وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ عوام کے ذہنوں سے طالبان کی کارروائیوں کا ڈر ختم کرنا شمالی وزیرستان میں دو سال سے جاری فوجی کارروائی ضرب عضب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے آپریشن ضربِ عضب کے دو برس کی تکمیل کے موقعے پر ایک انٹرویو میں کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ذہنوں سے وہ فکر ختم ہوگئی ہے کہ ان کا عزیز گھر سے باہر جاتا ہے تو واپس لوٹے گا یا نہیں اور یہ ضرب عضب کی کامیابی ہے۔اس سوال پر کہ اگرچہ پاکستان میں شدت پسندوں کے بڑے حملوں میں یقیناًکمی آئی ہے تاہم چھوٹے حملوں کے ذریعے کیا وہ دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وفاقی وزیر نے کہاکہ چھوٹی موٹی وارداتیں اب بھی جاری رہیں گی لیکن لوگوں کے ذہنوں سے خوف ختم ہوگیا ہے۔ضرب عضب کے بارے میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔’قبائلی علاقوں میں امن بحال کر دیا گیا ہے ٗ شدت پسندوں کو منتشر کر دیا گیا ہے ٗ قبائلیوں نے بتا دیا کہ وہ طالبان کے طرز زندگی کو مسترد کرتے ہیں اور آئندہ بھی اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ حکومت نے ان علاقوں کی بحالی کیلئے 100 ارب روپے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کو منتشر کرنا کیا اس مسئلے کا حتمی حل ہے عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ایک دو کمانڈر تھے، وہ مارے گئے ہیں اور فضل اللہ بھی افغانستان میں روپوش ہے اور جلد مارا جائیگا ہمسایہ ملک کی خودمختاری کا مسئلہ ہے لیکن یہ معاملہ ہم نے امریکہ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے۔پاکستان میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پاکستان سے تین لاکھ افغان پناہ گزینوں کی مکمل واپسی کے بعد اگر پاکستان پر اس طرح کا کوئی الزام عائد ہوا تو پھر دنیا جو چاہے، سزا دے۔ملا اختر منصور کو ہم نے نہیں پالا ہوا تھا، نہ حقانیوں کا ہم سے کوئی تعلق ہے۔ جب ضرب عضب شروع ہوا تو ہم نے ان کو مسترد کر دیا کہ ہمارے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے۔اپنے ملک جانا یہاں رہنے والے 30 لاکھ افغانوں کا حق ہے ٗوہاں جو کارروائی کریں وہ جانیں ان کا کام جانے۔ ہم ان کو نہیں روک سکتے ٗافغان فورسز بھی ان کو نہیں روک سکتیں ٗان 30 لاکھ افغانوں کے ہر گھر میں جھانکنا کہ ان میں ملا منصور کون ہے اور فلاں کون ہے یہ مشکل کام ہے ٗیہ اخباروں میں کہنے کے لیے آسان ہے تاہم اس کا کرنا انتہائی مشکل ہے۔وفاقی وزیر نے دنیا پر ان افغان پناہ گزینوں کو بْھلا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب دنیا کی توجہ شام پر مرکوز ہے تاہم افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور بحالی پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالقادر بلوچ نے کہاکہ یہ تیزی سے کیا جانے والا کام نہیں۔ اس کے وسیع اثرات ہوں گے اس لیے تمام نقطہ ہائے نظر اور طبقات سے تعلق رکھنے والوں سے مشورہ کر لیا گیا ہے۔ تجاویز کو تقریباً حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔ دو نظریات سامنے آئے ہیں۔ پرانے قبائلی موجودہ نظام کو بحال رکھنا چاہتے ہیں ٗ پڑھے لکھے صحافی، تاجر اور سماجی کارکن اسے ختم کر کے باقی ملک کی طرح تمام حقوق دیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان دونوں کی تجاویز میں سے درمیانی راستہ نکالنا ہو گا۔اس سوال پر کہ آیا اس سلسلے میں قائم کی گئی حکومتی کمیٹی کی سفارشات پر ریفرینڈم کروانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ جو حل بھی سامنے آئے گا اس پر انھیں یقین ہے کہ قبائلیوں کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔سات ایجنسیاں ہیں، ہر کسی کا اپنا مفاد اور ترجیحات ہیں۔ کمیٹی کے لوگ غیرجانبدار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حتمی فیصلے کے لیے شاید لویا جرگہ کی ضرورت پڑے۔انھوں نے بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات ابھی وزیر اعظم، کابینہ اور پارلیمان کے سامنے رکھنا باقی ہیں اور ان کی منظوری لی جائے گی جس میں دو سے تین ماہ کا مزید وقت لگ سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں کہ قبائلی علاقوں میں متنازع پولیٹکل نظام کے بارے میں کیا رائے سامنے آئی ہے، ان کا جواب تھا کہ فاٹا اصلاحات میں اس بارے میں بھی بہت کچھ موجود ہے۔ تاہم انھوں نے کمیٹی کی سفارشات بتانے سے انکار کیا۔انہوں نے کہاکہ ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے بھی منصوبہ بنایا گیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کتنے وقت میں ہو گا اور اس کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔
دہشت گردی کیخلاف آپریشن،قوم کو بڑی خبر سنادی گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)
-
شدید بارشیں، پی ڈی ایم اے نے خبردار کردیا
-
ورک ویزا کے ساتھ روانہ ہو نے والے 23 افراد آف لوڈ
-
سرکاری ملازمین کے لیے اہم خبر، ”بڑا فیصلہ” ہو گیا
-
مٹی کے طوفان کا الرٹ جاری کردیا گیا
-
ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا
-
باقاعدگی سے نماز پڑھتی ہوں، غیرمسلم کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی: بھارتی اداکارہ
-
بیوی کے ناجائزتعلقات پتہ چلنے پر نوجوان نے خودکشی کرلی
-
پولیس ٹیم پر گائوں والوں کا حملہ اور فائرنگ، ڈی ایس پی کے گن مین اور خاتون اہلکار سمیت 11 زخمی
-
اٹلی کے اسٹڈی ویزے کے لئے کتنا بینک اسٹیٹمنٹ ہونا چاہیے؟ خواہشمند طلبا کے لیے بڑی خبر
-
شیشہ کیفے پر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے مسلم لیگ ن کا عہدیدار جاں بحق
-
سید اقرارالحسن کے ساتھ جملہ بازی کرنے والے ایف آئی اے اہلکار کو معطل کردیا گیا
-
وزٹ ویزا پر حج کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر
-
پاکستان میں عید الاضحی کب ہو گی؟ رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پیشگوئی کردی



















































