لندن(این این آئی)دی واک فری فاؤنڈیشن گلوبل سلیوری انڈیکس نے بتایا ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی دنیا کے 4 کروڑ 58 لاکھ افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطبق گزشتہ روز جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دی واک فری فاؤنڈیشن گلوبل سلیوری انڈیکس نے بتایا کہ بھارت میں سب سے زیادہ ایک کروڑ 83 لاکھ 50 ہزار افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ اس فہرست میں چین 33 لاکھ 90 ہزار اور پاکستان 21 لاکھ 30 ہزار کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق 167 ممالک میں زیادہ تر افراد قرض کی عدم ادائیگی، جبر ی مشقت، معاشی و جنسی استحصال اورجبری شادی کی وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔اس حوالے سے واک فری فاؤنڈیشن کے چیئرمین اینڈریو فوریسٹ کا کہنا تھاکہ رواں سال غلاموں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، اب دنیا بھر میں غلاموں کی تعداد 4 کروڑ 58 لاکھ ہے جبکہ 2014 میں غلاموں کی تعداد 10 گنا زیادہ تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر 2015 اور 2016 کی جانب نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں شعور بیدار ہورہا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان میں غلاموں کو آزاد کرنے کے حوالے سے مہم شروع ہوچکی ہے۔ میرے خیال میں ایک یا 2 سال میں ان کی تعداد میں مزید کمی آئے گی۔فوریسٹ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حوالے سے برطانوی حکومت کے قانون پر عمل پیرا ہونا چاہیے، برطانیہ نے ماڈرن سلیوری ( جدید غلامی) کے خلاف سخت قانون نافذ کیے ہیں جس میں غلام رکھنے کے جرم میں قید و جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔جدید غلامی سے مراد کسی بھی شخص پر جبر، تشدد، دھوکا اور اس پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض افراد کو قرض کی عدم ادائیگی کی بناء پر تاحیات غلام بنادیا جاتا ہے اور ان پر تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے جانوروں والا سلوک کیا جاتا ہے۔دنیا کے 124 ممالک میں اقوام متحدہ ٹریفکنگ پروٹوکول کے تحت انسانی اسمگلنگ کو جرم قرار دیا جاچکا ہے۔ 96 ممالک نے حکومتی کارروائیوں کو موثر بنانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بھی بنائے، تاہم فوریسٹ کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ کو مکمل طور پر روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے تو ایشائی ممالک غلاموں کی تعداد کے لحاظ سے ٹاپ 5 میں آتے ہیں، جن میں ہندوستان (ایک کروڑ 83 لاکھ 50 ہزار)، چین (33 لاکھ 90 ہزار)، پاکستان (21 لاکھ 30 ہزار )، بنگلہ دیش (15 لاکھ 30 ہزار ) اور ازبکستان (12 لاکھ 30 ہزار) شامل ہیں۔
بھارت مکروہ کام میں سر فہرست ،دنیا پھر بھی خاموش
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
ایزی پیسہ کا بڑا سرپرائز،صارفین کے لیے ناقابل یقین سہولت
-
فیض حمید لوگوں کو سرد خانے میں لاشوں کے ساتھ قید کرتے تھے، جاوید چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات
-
نئے سال پر عوام کو بڑا ریلیف مل گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حیران کن کمی
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
خاتون کیساتھ چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
پنجاب حکومت نے 9سرکاری محکمے ختم کردیئے،نوٹیفکیشن جاری
-
سال کے پہلے دن سونا سستا، قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
-
راولپنڈی، غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کو قطر سے پاکستان لا کر قتل کر دیا گیا
-
یکم جنوری سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان
-
تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اوربرف باری کی پیشگوئی
-
زبانی لین دین پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال پر پابندی عائد















































