ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

بھارت مکروہ کام میں سر فہرست ،دنیا پھر بھی خاموش

datetime 1  جون‬‮  2016 |

لندن(این این آئی)دی واک فری فاؤنڈیشن گلوبل سلیوری انڈیکس نے بتایا ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی دنیا کے 4 کروڑ 58 لاکھ افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطبق گزشتہ روز جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دی واک فری فاؤنڈیشن گلوبل سلیوری انڈیکس نے بتایا کہ بھارت میں سب سے زیادہ ایک کروڑ 83 لاکھ 50 ہزار افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ اس فہرست میں چین 33 لاکھ 90 ہزار اور پاکستان 21 لاکھ 30 ہزار کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق 167 ممالک میں زیادہ تر افراد قرض کی عدم ادائیگی، جبر ی مشقت، معاشی و جنسی استحصال اورجبری شادی کی وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔اس حوالے سے واک فری فاؤنڈیشن کے چیئرمین اینڈریو فوریسٹ کا کہنا تھاکہ رواں سال غلاموں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، اب دنیا بھر میں غلاموں کی تعداد 4 کروڑ 58 لاکھ ہے جبکہ 2014 میں غلاموں کی تعداد 10 گنا زیادہ تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر 2015 اور 2016 کی جانب نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں شعور بیدار ہورہا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان میں غلاموں کو آزاد کرنے کے حوالے سے مہم شروع ہوچکی ہے۔ میرے خیال میں ایک یا 2 سال میں ان کی تعداد میں مزید کمی آئے گی۔فوریسٹ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حوالے سے برطانوی حکومت کے قانون پر عمل پیرا ہونا چاہیے، برطانیہ نے ماڈرن سلیوری ( جدید غلامی) کے خلاف سخت قانون نافذ کیے ہیں جس میں غلام رکھنے کے جرم میں قید و جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔جدید غلامی سے مراد کسی بھی شخص پر جبر، تشدد، دھوکا اور اس پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض افراد کو قرض کی عدم ادائیگی کی بناء پر تاحیات غلام بنادیا جاتا ہے اور ان پر تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے جانوروں والا سلوک کیا جاتا ہے۔دنیا کے 124 ممالک میں اقوام متحدہ ٹریفکنگ پروٹوکول کے تحت انسانی اسمگلنگ کو جرم قرار دیا جاچکا ہے۔ 96 ممالک نے حکومتی کارروائیوں کو موثر بنانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بھی بنائے، تاہم فوریسٹ کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ کو مکمل طور پر روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے تو ایشائی ممالک غلاموں کی تعداد کے لحاظ سے ٹاپ 5 میں آتے ہیں، جن میں ہندوستان (ایک کروڑ 83 لاکھ 50 ہزار)، چین (33 لاکھ 90 ہزار)، پاکستان (21 لاکھ 30 ہزار )، بنگلہ دیش (15 لاکھ 30 ہزار ) اور ازبکستان (12 لاکھ 30 ہزار) شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…