پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نے اپنی آ ف شور کمپنی بارے صاف صاف بتا دیا

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

لندن( آئی این پی ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے 1983میں آف شور کمپنی بنائیتاکہ ٹیکس بچا جا سکے اوراس زمانے میں کاونٹی کرکٹ کے پیسے سے لندن میں فلیٹ خریدا،میں برطانیہ کا شہری نہیں تھا اس لئے میرا یہ حق تھا آف شورکمپنی بناﺅں ۔ وہ جمعہ کو لندن میں ہیتھرو ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ نے یک طرفہ ضابطہ کار تیار کرکے سپریم کورٹ کو پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے خط لکھ دیا تھا ۔ جب تک اپوزیشن اور حکومت مل کر کوئی حتمی ضابطہ کار تیار نہیں کر لیتے تب تک اس پر سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن نہیں بنا سکے گا کیوںکہ پھر وہ کمیشن انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پائے گا ۔ عمران خان کا پانامہ لیکس میں نام آنے کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں 1980 کی دہائی میں کاوئنٹی کرکٹ کھیلتا تھا انگلینڈ میں اور اس پیسے میں سے 35 فیصد ٹیکس ادا کرتا تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ میں برطانیہ کا شہری نہیں تھا اس لئے میرا حق تھا آف شور کمپنی بناﺅں۔ آف شور کمپنی اکاﺅنٹنٹ کے کہنے پر بنائی تاکہ ٹیکس سے بچا جا سکے یہ کمپنی 1983 میں بنائی انہوں نے کہا کہ میں نے قانونی طریقے سے کمپنی بنائی اور پھر لندن میں فلیٹ خریدا جسے 2003 میں بیچ کر سارا پیسہ پاکستان منتقل کر دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ میں ان پاکستانیوں میں سے ہوں جو 19 ارب ڈالر باہر غیر ممالک سے کما کر پاکستان بھیجتے ہیں جس کے اوپر پاکستان چلتا ہے ۔ جب کہ یہاں نواز شریف اور ان کی فیملی ان پاکستانیوں میں سے ہیں جو پاکستان کو تباہ کر رہے ہیں اور پاکستان سے پیسہ کرپشن کرکے ملک سے غیر قانونی طور پر باہر منتقل کرتے ہیں جس سے پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرتا ہے یہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف نے جو کیا وہ جرم ہے اور میں نے جو کیا یہ جرم نہیں ہے یہ میرا جائز حق ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے عمران خان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ پیغام بھی دے چکے ہیں کہ آف شور کمپنی وہی کھولتا ہے جو غیر قانونی آمدنی چھپاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…