جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

سی پیک منصوبہ کسی تیسرے فریق کیخلاف نہیں ، چینی صدر

datetime 25  اپریل‬‮  2016 |

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چینی صدر ژی جن پنگ نے واضح کر دیا ہے کہ سی پیک منصوبہ ایک کمرشل منصوبہ ہے اور یہ کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے ، پاکستان میں ترقیاتی منصوبے اور گوادر فری ٹریڈ زون مقررہ مدت سے پہلے مکمل کر لئے جائینگے کیونکہ دونوں ملکوں کی قیادت ان منصوبوں کی تکمیل میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور ان کی اہمیت سے پوری طرح با خبر ہے ، ان منصوبوں کو چین کے پانچ سالہ منصوبے میں بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے ، سی پیک منصوبوں کا پہلا مرحلہ 2017ء کے آخر یا 2018ء کی ابتدا میں مکمل ہو جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے کے منصوبے 2020ء اور تیسرے مرحلے کے پراجیکٹ 2030ء تک مکمل ہو جائیں گے تا ہم سی پیک منصوبے کے ثمرات پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے ، یہ بات چین کی سٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جو اس کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق چینی صدر ژی جن پنگ نے واضح کر دیا تھا کہ سی پیک منصوبہ ایک کمرشل منصوبہ ہے اور یہ کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے ، پاکستانی ذرائع ابلاغ نے چینی صدر کے اس ردعمل کو جو سی پیک منصوبے سے متعلق بھارتی بیان پر چینی صدر نے ظاہر کیا تھا ، نمایاں طورپر شائع کیا اور اسے خصوصی اہمیت دی ، سی پیک منصوبے نے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کو متحد کر دیا ہے اور یہ بات بھی خاص طورپر پیش نظر رکھنے کی ہے ہر صوبہ اس منصوبے کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ خواہش نامناسب بھی نہیں ہے ، سی پیک منصوبہ جہاں پاکستان میں ترقی و خوشحالی کے عمل کو تیز کر دے گا وہاں چین کو بھی اس سے بے پناہ فوائد حاصل ہو ں گے ،اس وقت چین اپنا تیل آبنائے ملاکا سے 16000کلومیٹر کا سفر طے کر کے شنگھائی تک لے آتا ہے جس کیلئے اسے دو سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ گوادر بندرگاہ کے مکمل ہونے پر چین کو گوادر سے سنکیانگ تک اپنا تیل لانے کیلئے 5ہزار کلومیٹر سے کم فاصلہ طے کرنا پڑے گا ، بحر ہند میں گوادر کی بندر گاہ کی وجہ سے چین کا اثر ورسوخ بھی بڑھ جائے گا جو کہ بحراوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان سامان کی نقل وحمل کا ایک لازمی راستہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…