منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا جوہری پروگرام تمام حالات میں چلتا رہے گا، بیرونی دباؤ قابل قبول نہیں ہوگا ٗ جنرل احسان الحق

datetime 15  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان نے ایک متوازن نیوکلیئر آرڈر کیلئے سیاسی اختلافات کو دور کر نے اور اپنے مفاد کے لیے جوہری ہتھیاروں پر کم سے کم انحصار کی تجویز پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت امریکی حمایت کے باوجود چین کی وجہ سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں جگہ نہیں بنا پائیگا اسٹریٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ اور غیر سرکاری جرمن ادارے کونراڈ اڈینویر سٹیفٹنگ کی جانب سے منعقدہ انٹرنیشنل نیوکلیئر آرڈر کانفرنس میں پاکستان کے سفیر ضمیر اکرم نے شرکت کی۔پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں سابق مستقل نمائندے ضمیر اکرم نے کہاکہ بھارت کے نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے امکانات عملی طور پر صفر ہیں۔ضمیر اکرم نے کہا کہ چین بھارت کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس گروپ میں شامل ہو کیونکہ اس سے پاکستان کے ساتھ جوہری معاملات اثرانداز ہوں گے۔گلوبل نیوکلیئرآرڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضمیر اکرم نے کہاکہ یہ مختلف عوامل کی وجہ سے غیر مستحکم ہوا ہے ٗ جس میں عالمی قوتوں کے دوہرے معیار اور بھارت کو دی گئی امتیازی چھوٹ بھی شامل ہیں ۔ضمیر اکرم نے ایک متوازن نیوکلیئر آرڈر کیلئے تجویز پیش کی کہ سیاسی اختلافات کو دور کیا جائے ٗاپنے مفاد کے لیے جوہری ہتھیاروں پر کم سے کم انحصار کیا جائے ٗ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے اس کی تخفیف پر مذاکرات کیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کی امتیازی پالیسیوں کو ختم کرنا ہوگا اور یہ عہد کرنا ہوگا آئندہ ایسے ہتھیار نہیں بنائے جائیں گے۔سابق چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) احسان الحق نے کانفرنس کا افتتاح کیا پاکستانی سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل احسان الحق نے کہاکہ وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرکے ملک کے مقدمے کی قانونی حیثیت اور ساکھ کا دفاع بھرپور صلاحیتوں سے کریں۔جنرل احسان نے ورلڈ نیوکلیئر آرڈر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتہائی امتیازی سلوک کا حامل اور رکاوٹ ڈالنے والا قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا جوہری پروگرام تمام حالات میں چلتا رہے گا، اس معاملے پر بیرونی دباؤ قابل قبول نہیں ہوگا۔اسڑیٹجک وژن انسٹیٹیوٹ(ایس وی آئی) کے صدر ظفر اقبال چیمہ نے بھی نیوکلیئر آرڈر کو مسترد کیا۔انہوں نے کہاکہ این پی ٹی اور نان پرولیفریشن رجیم (این پی آر) کو عالمی طاقتیں اپنی سیاسی، اسٹریٹیجک اور خارجہ پالیسی کے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مغرب کے امتیازی سلوک کا شکار رہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…