منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

صرف ایک سال بعد2017ءمیں گوادرکیسا ہوگا؟ چین نے زبردست خبر سنادی

datetime 13  اپریل‬‮  2016 |

گوادر(نیوزڈیسک) چین کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ پاکستان کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ گودار ایک سال میں مکمل طور پر فعال ہو جائیگی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کی بیرون ملک بندرگارہوں کو ترقی دینے والے محکمے چائنا اورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ زانگ بوزونگ نے کہا کہ 2017 میں گودار بندرگاہ سے دس لاکھ ٹن کارگو گزرے گا۔انہوں نے کہاکہ فی الحال گودار بندرگاہ سے تجارت نہ ہونے کے برابر ہے ٗگوادر کو علاقائی تجارت کا مرکز بنانا ہمارا خواب ہے ٗ ہمیں امید ہے کہ اس میں (تجارت) میں بہت بڑا اضافہ ہو گا ٗگوادر بندرگاہ کو 47 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کا دل سمجھا جاتا ہے ٗ اس بندرگاہ کے بننے سے چین کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک رسائی آسان ہو جائیگی۔گودار بندرگاہ 2007 میں چین کے مالی اور تکنیکی تعاون سے قائم ہوئی تھی ٗمنصوبے کیلئے چین نے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر کی امداد دی تھی چینی اہلکار نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں گودار پر آنے والے سامان کی اکثریت گوادر شہر کی تعمیر کے لیے سازوسامان پر مشتمل ہو گی۔ پاکستانی اہلکار گوادر شہر کو دبئی کا نعم البدل بنانا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ گودار سے برآمدات کی اکثریت سمندری خوراک کی ہوگی اس مقصد کے لیے ایک جدید پراسیسنگ پلانٹ کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…