استنبول (نیوز ڈیسک) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور تقاریر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے مشکلات کے اس دور میں مسلم امہ کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے استنبول میں او آئی سی وزارتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ مسلم امہ کو اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا ہے پناہ کے متلاشی مہاجرین کو ناقابل برداشت مشکلات درپیش ہیں اور ممالک بحران کا شکار ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پوری دنیا کو اس سے خطرہ ہے دہشت گردی کو کسی مذہب سے جوڑنا درست نہیں ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور تقاریر پر شدید تشویش ہے ایسے بیانات مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے مسلمانوں کو آج جو مشکلات درپیش ہیں اس وقت مسلم امہ کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے او آئی سی کو مسلم امہ کے اختلافات ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
دہشت گردی کو مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے،سرتاج عزیز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
کیا رواں ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے اضافہ ہونے جا رہا ہے؟اوگرا نے بتا دیا
-
پاکستان کرکٹ بورڈ کا قذافی اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ
-
یوٹیوبر رجب بٹ کی طلاق کی پیشگوئی کرنے والی آسٹرلوجسٹ لالہ رخ نے ایک اور خطرناک پیش گوئی کر دی
-
جمعتہ الوداع کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان
-
’بانی پی ٹی آئی کو آج یا کل ہی رہا ہونا چاہیے‘
-
رکشہ اور موٹر سائیکل کا چالان کرنے پر پابندی عائد
-
عیدالفطر کب ہوگی؟ بین الاقوامی مرکز برائے فلکیات کا بڑا انکشاف
-
پاکستان پر عالمی سفری پابندیوں میں 3ماہ کی توسیع
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے؟ پینٹاگون کا بڑا اعتراف
-
بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
-
ٹرمپ نے ایران پر حملےکی ذمہ داری اپنے داماداور وزیر دفاع پر ڈال دی
-
’’پٹرول کی قیمت ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے نہیں بڑھی‘‘ تو پھر وجہ کیا؟ جانیے اندر کی خبر



















































