لندن: لندن میں ڈاکٹروں نے 1600 انسانی دلوں کو ڈیجیٹل شکل میں ایک کمپیوٹر پر ذخیرہ کیا ہے۔ اس زخیرے کا مقصد ہے کہ مریضوں کے جین کے ساتھ دل کی تفصیلی معلومات کا موازنہ کرکے نئے علاج ایجاد کیے جائیں۔ یہ وسیع معلومات کے زخیرے کے استعال کا تازہ ترین پروجیکٹ ہے۔ یہ مطالع نئے ’’بڑے ڈیٹا‘‘ پر مبنی نئی لہر میں سے ایک ہے جو کہ تحقیق کے طریقے میں زبردست تبدیلی کا محرک رہا ہے۔ ہیمر اسمتھ اسپتال میں میڈیکل کونسل کے کلینیکل سائنسز سینٹر کے سائنسدانوں نے 1600 مریضوں کے دل کی تھری ڈی تفصیلات اکٹھا کی ہیں اور ہر ایک رضا کار سے ان کی جینیاتی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ڈکلان او ریگن کا کہنا ہے کہ اس نئے طریقے میں معمول کی طبی جانچ کے مقابلے میں بہتر امکانات موجود ہیں‘ لوگوں کی جین اور دل کی بیماری کے درمیان بہت پیچیدہ رشتہ ہے اور ہم ابھی تک ان کے بارے میں جاننے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن دل کی واضح تھری ڈی تصویر کی صورت میں ہمیں امید ہے کہ اس سے دل کی بیماری کے اسباب کو سمجھنے میں اضافہ ہوگا اور ہم مریض کو بروقت صحیح علاج فراہم کر سکتے ہیں۔
دل کی بیماری کے علاج کیلیے 1600 ڈیجیٹل دلوں کا ذخیرہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































