اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے پانامہ لیکس کے معاملے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے ان کا اور شوکت خانم ہسپتال کا احتساب کیا جائے،اگر شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو ہمارے پاس سوائے سڑکوں پر آنے کے کوئی اور آپشن نہیں ہوگا۔ قومی اسمبلی میں پاناما لیکس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے چئیرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں شوکت خانم ہسپتال اور بنی گالہ کے گھر کا کہیں ذکر نہیں مگر حکومتی وزرا کو نجانے یہ کہاں سے نظر آگئے۔ اگر نام آیا ہے تو وزیراعظم کی فیملی کا نام آیا ہے۔ ملک کا وزیراعظم لیڈر شپ دیتا ہے ہم پوچھتے ہیں تو یہ الٹا الزام لگاتے ہیں۔ اگر میرے ہسپتال میں کوئی غلط کام ہوا ہے تو اسے پکڑنا تو حکومت کا کام تھا انہیں اسی وقت خیال آیا جب وزیراعظم کی چوری پکڑی گئی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب میری حکومت آئی تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا سب کو پکڑوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی موجودگی میں ایک وزیر کی طرف سے میرے خلاف غیرپارلیمانی زبان استعمال کی گئی۔ وزیراعظم معسوم بنے بیٹھے رہے اگر یہ لوگ جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو سچ کا سامنا کرنا بھی سیکھیں۔ عمران خان نے کہاکہ شوکت خانم وہ ہسپتال ہے جہاں پر 70 فیصد غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے جس پر ساڑھے تین سو کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ وزیر کہتے ہیں کہ تین ملیں ڈالر ڈوب گئے وہ تو کب کے واپس آچکے ہیں الزام لگانے سے قبل ایک فون ہسپتال کی انتظامیہ کو کرکے حقیقت تو جان لیتے۔ اگر یہ بند ہوگیا تو کیا ان کے پاس اس طرح کا کوئی دوسرا ہسپتال ہے۔ عمران خان نے کہاکہ ہسپتال کیلئے 40 فیصد فنڈ بیرون ملک سے آتے ہیں۔ تمام حساب کتاب اوپن ہے جہاں پر باہر ہونے والا ایک ہزار روپے کا علاج سو روپے میں ہوجاتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی فیملی نے اگر چوری نہیں کی تو وہ اپنے اثاثے ڈیکلیئر کریں یہ فیصلہ کن لمحہ ہے 2005 میں ملکی قرضہ 5 ٹریلین روپے تھا تو اب یہ 21 ٹریلین ہوگیا ہے۔ ہمیں ٹیکس کا نظام ٹھیک کرنا ہوگا۔ آزاد اور خود مختیار نیب کا ادارہ بنانا ہوگا پھر ہی ہم باعزت ملک بن سکتے ہیں عمران نے کہاکہ پاناما لیکس کی تحقیقات چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن سے کروائی جائیں جس میں فارنزک مارہین اور بین الاقوامی آڈٹ فرم بھی معاونت کریں سچ جاننا ہے تو ہمیں بھارت کی طرز کا کمیشن بنانا پڑے گا اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے پاس سوائے سڑکوں پر آنے کے کوئی چارہ نہیں ہوگا یہ ہی جمہوریت کا تقاضا ہے عمران خان نے خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے انکے اور انکے ہسپتال سے متعلق تحقیقات کی جائیں پھر کسی اور کا احتساب کریں۔عمران خان نے کہاکہ وزیراعظم خود کو احتساب کے لئے پیش نہیں کریں گے تو انکے پاس کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہے گا۔ حکومت سوئس بنکوں سے 2 سو ارب ڈالر واپس کیوں نہیں لاتی دبئی میں ہونے والی ساڑھے سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تحقیقات کیوں نہیں کرتی اصل وجہ یہ ہی ہے کہ ان کے پاس کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں ہے۔
وزیراعظم کی فیملی نے اگر چوری نہیں کی تو ۔۔! عمران خان نے اہم مطالبہ کردیا،سڑکوں پر آنے کی دھمکی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
بجٹ سے پہلے بڑا دباؤ، سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ اور پنشن بحالی کا مطالبہ
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری



















































