بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

نیوزی لینڈ کی سرکاری سٹیل مل میں نواز شریف کی سرمایہ کاری ،آرمی چیف کے نام خط میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 7  اپریل‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان عوامی تحریک نے چیف جسٹس آف پاکستان ،چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین نیب کے نام خط میں مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے 1995 ءمیں نیوزی لینڈ کی سرکاری سٹیل مل میں 49فیصد شیئر تھے،چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور یہ کمیشن اس خفیہ سرمایہ کاری کی چھان بین کرے۔ پانامہ لیکس کی دستاویزات میں کرپشن کی جو ہوشربا داستانیں سامنے آئی ہیں ان کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی اور اشتعال ہے۔اس معاملہ کی چھان بین کی جائے کرپشن کے اس عالمی مالیاتی سکینڈل کو دبانے کی کوشش کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔ عوام جاننے چاہتے ہیں حکمران خاندان کو آف شور کمپنیاں بنان کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ کہ نیوزی لینڈ کی سرکاری سٹیل مل کے 49 فیصد شیئر کس پیسے سے خریدے گئے؟ اور کیا موجودہ وزیراعظم نے نیوزی لینڈ کی سٹیل مل میں کی جانے والی یہ انویسٹمنٹ 1994,95 کے گوشواروں میں ظاہر کی؟ یہ خط پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور کی طرف سے لکھا گیا ہے۔خرم نواز گنڈاپور نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ لونگی نے یہ حقائق پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو 1994 میں دورہ نیوزی لینڈ کے دوران ایک سوشل ڈنر کے موقع پر بتائے۔پہلی بار یہ معلومات سربراہ عوامی تحریک ریکارڈ پر لائے ہیں کوئی اس کی تصدیق کرنا چاہے تو وہ اپنا بیان ریکارڈ کروانے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم کے اس انکشاف کی انکوائری ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ سابق وزیراعظم ڈیوڈ لونگی نے سرکاری سٹیل مل میں انویسٹمنٹ کا ذکر کیا تو یقینا 1994,95 کے سرکاری ریکارڈ میں اس کی تفصیلات دستیاب ہونگی۔انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کی ایک شق معاشی دہشتگردی کا خاتمہ بھی ہے اس لیے آرمی چیف اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اپیکس کمیٹی معاشی دہشتگردی کے اس کیس کا جائزہ بھی لے سکتی ہے۔چیف جسٹس سوموٹو ایکشن کے ذریعے اس کی تحقیقات کریں اور قومی خزانے کی لوٹ مار کی تحقیقات کرنا نیب کی بھی آئینی ذمہ داری ہے۔یہ تینوں آئینی ادارے تحقیقات میں ایک دوسرے کی مدد کریں کیونکہ یہ قومی خزانے کی لوٹ مار اور عوامی ودلت کی چوری کا سنگین معاملہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…