منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایم کیو ایم نے وزیراعلی ہاؤس پر احتجاج نہیں بلکہ حملہ کیا، قائم علی شاہ

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |

کراچی…… سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایوان میں ایم کیو ایم اراکین کے اظہار خیال اور اس پر وزیراعلی سندھ کے رد عمل کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا اور متحدہ قومی موومنٹ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

 ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے اجلاس کے دوران کراچی میں کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف اظہار خیال کیا اور وزیراعلی سندھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی قائم علی شاہ سندھ کے حاکم ہیں اور ان کی حاکمیت میں ہمارے کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، حکومت کو کارکنوں کے قتل کا نوٹس لینا چاہیئے۔

اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کارکنوں کے قتل کے خلاف وزیراعلی ہاؤس کے سامنے کیا جانے والا احتجاج، احتجاج نہیں بلکہ حملہ تھا جس میں پارٹی رہنماؤں سمیت کارکن رکاوٹیں پھلانگ کر گیٹ تک پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا جب کہ شہر میں ہرصورت امن قائم کیا جائے گا، کسی صورت امن و امان خراب کرنے نہیں دیں گے، تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک پہنچائیں گے اس لئے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جس نے بھی جرم کیا اسے نہیں چھوڑیں گے چاہے اس میں میرا عزیز ہی کیوں نہ ہو، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی سندھ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے کارکنوں کے قتل پر بات چیت کے لئے وزیراطلاعات نے ایم کیو ایم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن قمرمنصور نے شرجیل میمن سے بات کرنے سے صاف انکارکردیا۔

دوسری جانب وزیراعلی کے اس بیان پر ایم کیو ایم اراکین اسمبلی سراپا احتجاج بن گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے جب کہ ایوان میں شور شرابے کے باوجود وزیراعلی سید قائم علی شاہ کی تقریر جاری رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…