منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کو لالچ کی بڑی سزا

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |

ایڈیلیڈ….. کرکٹ آسٹریلیا کو زیادہ منافع کے لئے بھارت کے خلاف ایڈیلیڈ میں شیڈول  میچ سڈنی منتقل کرنا بھاری پڑگیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹرائنگولر سیریز میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان دوسرا میچ پہلے ایڈیلیڈ کو دیا گیا تھا لیکن پھر گذشتہ برس جون میں کرکٹ بورڈ نے یہ مقابلہ سڈنی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یوم آسٹریلیا پر چھٹی کی وجہ سے سڈنی میں زیادہ مال بنایا جاسکے گا لیکن اس وقت لالچ کی اسے بڑی سزا مل گئی جب یہ میچ بارش کی نذر ہوگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت اسٹیڈیم میں 23 ہزار کے قریب شائقین موجود تھے، جن میں بھارتی شائقین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی کیونکہ یہ مقابلہ خود ان کے ملک کے یوم جمہوریہ کے موقع پر منعقد ہورہا تھا۔ ایڈیلیڈ میں ایک دن قبل ہی رات کو بگ بیش کے سیمی فائنل میں 53 ہزارکے قریب تماشائیوں نے شرکت کی تھی۔

جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہاں پر چھٹی کے دن مقابلے کا انعقاد کافی سود مند رہتا ہے دوسرا سڈنی میں ان دنوں موسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ اس لیے اس میچ میں گنجائش سے بہت کم تعداد میں کراؤڈ آیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شروع سے ہی لوگوں کو بارش کے خطرے کا احساس تھا جوکہ درست بھی ثابت ہوا، مقابلے کے بارش کی نذر ہونا ایک طرح سے ایڈیلیڈ کے لیے اچھی خبر بھی ہے کیونکہ اب اگلے سیزن میں کرکٹ آسٹریلیا اس میچ کی منتقلی کی غلطی نہیں کرے گا۔ شائقین نے سی اے کے کی جانب سے میچ کی ایڈیلیڈ سے سڈنی منتقلی کے فیصلے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔دوسری جانب بورڈ اور کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز کی جانب سے تماشائیوں کوٹکٹ کی 50 فیصد رقم واپس کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…