منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعید اجمل نے سنائی خوشخبری، کلک کرکے پڑھیں

datetime 26  جنوری‬‮  2015 |

کراچی…… پاکستانی آف اسپنر سعید اجمل نے چنئی میں آئی سی سی کی منظور کردہ لیبارٹری سے اپنے ایکشن کا بائیومکینک تجزیے کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ایکشن کو کلیئر کر دیا جائے گا۔

چنئی میں بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرا ٹیسٹ کرنے والے میرے بولنگ ایکشن سے خوش تھے، میں پرامید ہوں، لیکن آخری فیصلہ تو انہی  کا ہوگا، گزشتہ برس سری لنکا کے خلاف گال میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے امپائروں نے سعید اجمل کے مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں رپورٹ دی تھی، اس کے بعد آئی سی سی نے انھیں بولنگ ایکشن کے تجزیے کے لیے برسبین بھیجا تھا جس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعید اجمل تقریباً چالیس ڈگری پر بولنگ کررہے ہیں جبکہ آئی سی سی کی مقرر کردہ حد پندرہ ڈگری ہے اس کے بعد سے سعید اجمل کو معطلی کا سامنا ہے۔

حالیہ بائیو مکینک ٹیسٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ نے ٹیسٹ کے دوران 30گیندیں کی ہیں اور ہر دفعہ میں نے پانچ مختلف گیندیں کیں جن میں دوسرا، کیرم بال، آف اسپن، سیم اپ، اور تیز گیندمیں شامل تھیں، انھوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ  اب میں اپنی ’دوسرا‘ گیند بھی مقررہ حد کے اندرکرپارہا ہوں، اگر میں صرف آف اسپن بولنگ کرنا چاہتا تو میں صرف 2 ہفتے کے اندر اپنا ایکشن کلیئر کروا لیتا۔ لیکن میں اپنی تنوع کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں، اپنے بولنگ ایکشن میں تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ ’پہلے میرا بازو میرے جسم کے پیچھے سے آتا تھا۔

اب یہ سائیڈ سے آ رہا ہے، پہلے میرا اگلا پاؤں ہوا میں ہوتا تھا جب گیند کو ریلیز کرنے والا ہوتا تھا لیکن اب میرا پاؤں زمین پر ہوتا ہے، پہلے میں گیند کو ریلیز کرتے ہوئے اوپر کی طرف دیکھ رہا ہوتا تھا لیکن اب میں بیٹسمین کو دیکھ رہا ہوتا ہوں، اب میرا ایکشن سائیڈ آرم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…