منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں پر الزام تراشی سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں، جان کیری کا انکشاف، پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 25  جنوری‬‮  2015 |

ڈیووس: امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ مسلمانوں پرالزام لگانے سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔

سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ فوجی ایکشن بھی شدت پسندی کے خاتمے کے حل کا حصہ ہے۔ منظم حکمت عملی سے دہشتگردوں کو روکا جا سکتا ہے۔سانحہ پشاور تاریخ کا بدترین واقعہ تھا۔ طالبان نے بچوں پر حملے کرکے انھیں اسکول جانے سے روکا۔ ہنستا بستا اسکول ایک منٹ میں موت اور تباہی کا شکار ہوگیا۔ جب آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا تو پرنسپل نے کہا کہ میں ان بچوں کی ماں ہوں، یہ اس خاتون کے آخری الفاظ تھے۔ پرنسپل کی بہادری کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی بچوں کی تعلیم کے لیے امید کی کرن ہیں، دہشت گردی وہاں جنم لیتی ہے جہاں حکومتی ادارے کمزور ہوں۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ عالمی اتحاد نے داعش کوکمزورکردیا ہے۔ دعش اور دیگر تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ داعش سے کسی ایک ملک نہیں بلکہ دنیا کوخطرات کو لاحق ہیں۔ عرب اور یورپی ممالک مل کر داعش کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

4 ماہ پہلے داعش بغداد پرقبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھی۔ پرتشدد انتہا پسندی دنیا کے لیے سنگین خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے، جس کا مقابلہ مل کرہی کیا جا سکتا ہے تاہم، انھوں نے واضح کیاکہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور یہ بات صریحاً غلط ہوگی کہ دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے لیے کسی طوراسلام کو قصوروار ٹھہرایا جائے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کوامن وسلامتی کا درس دیتا ہے جبکہ دہشت گردی یا پرتشدد انتہاپسندی چند افراد کا قبیح ذاتی فعل ہے۔ یہ ذاتی عناصر ہی ہیں جو مذہب کا نام لے کر دنیا میں تباہی، قتل عام اور بربادی پھیلا رہے ہیں، جس کی مذہب ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جان کیری نے اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان میں طالبان اور شدت پسند کارروائیوں کا خصوصی طور پر ذکرکیا۔انھوں نے کہا کہ داعش خلافت کی دعویدار ہے اور ہلاکتوں کے عمل میں پیش پیش ہے۔ اسی طرح بوکوحرام دہشت گردی اور قتل عام کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…