پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

صنعتی بجلی سستی کرنے کا اعلان آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے،اپٹما

datetime 31  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک) شعبہ ٹیکسٹائل نے حکومت کی جانب سے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے دھوکہ دہی پرمبنی پالیسی اختیارکرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ پاورٹیرف میں3 روپے فی یونٹ کی کمی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے مرکزی چیئرمین طارق سعود نے کہا کہ حکومت کی عدم دلچسپی اور مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے ہی مایوسی سے دوچار ہے لیکن اب فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ بجلی کے ٹیرف میں 3روپے فی یونٹ کی کمی کرکے اس شعبے کودھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ حکومت کے اس اقدام سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کوکوئی فائدہ ملنے کے بجائے اسے مزید مالی دباو¿ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری یہ توقع کررہی تھی کہ جنوری کے بجلی بل میں لاگت 9روپے فی یونٹ ہوگی لیکن یہ لاگت13روپے فی یونٹ ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بل میں ایسے سرچارج بھی شامل ہیں جو ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وصول نہیں کیے جاسکتے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری زیرو لاس کی بنیاد پر بجلی حاصل کررہی ہے اور بل کی مکمل ادائیگی کررہی ہے۔ طارق سعود کا کہنا تھا کہ صنعتوں کی بحالی اور ان کی رکی ہوئی استعداد کو بحال کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ حکومت اس انڈسٹری کے لیے بجلی کے ٹیرف کو خطے کے دیگر ممالک کی طرح 9 روپے فی یونٹ کی اوسط سطح پر لے آئے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کی قیمت میں 3 روپے فی یونٹ کی کمی کے اعلان سے پہلے 9روپے فی یونٹ کے حساب سے لاگت کا تخمینہ لگاکر اپنی مصنوعات کے ا?رڈر لے رہے تھے، وزیراعظم کی جانب سے بجلی کے ٹیرف میں 3روپے کی کمی کے اعلان سے انڈسٹری کو بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی جس سے رکی ہوئی استعداد کی بحالی، برآمدات میں اضافے اور مزید سرمایہ کاری ا?نے کی بھی توقع نہیں رہے گی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کریں کہ وہ 3روپے فی یونٹ کی کمی تمام سرچارجز سے کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…