اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے کم عمری کی شادی کے بارے میں رکن اسمبلی ماروی میمن کے ترمیمی بل کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ بل اسلامی اقدار کیخلاف،مغربی ذہنیت کا عکاس،غیر شرعی اور غیر اسلامی ہے ، قرآن پاک میں بچیوں کی شادی سے متعلق واضح احکامات موجود ہیں ، نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے بعد کمیٹی نے اکثریتی طور پر بل کو مسترد کردیا۔ خلاف اسلام قوانین کسی صورت قبول نہیں کئے جائیں گے۔ جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین حافظ عبدالکریم کی صدارت میں وزارت مذہبی امور میں منعقد ہوا اجلاس میں رکن اسمبلی ماروی میمن نے کم عمری کی شادی سے متعلق ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل پیش کرنے کا مقصد کسی قسم کے خلاف اسلام ترامیم کرانا نہیں ہے بلکہ کم عمری کی شادی سے ماں اور بچے کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنا ہے انہوں نے بتایا کہ کم عمری کی شادی کی وجہ سے اکثر مائیں حالت زچگی میں جاں بحق ہوجاتی ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کم عمر کی شادی کے سلسلے میں موجود قانون میں ترامیم کرکے سزاؤں کو سخت کیا جائے اور شادی کے وقت عمر اٹھارہ سال رکھی جائے انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی پہلے ہی یہ قانون منظور کرچکی ہے اس موقع پر سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ قانون میں ترمیم کیلئے وزارت تعلیم اور اسلامی نظریاتی کونسل سے سفارشات مانگی تھی وزارت تعلیم نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ کم عمری کی شادی میں اسلامی قوانین اور سنت رسول ﷺ کیخلاف ترامیم نہ کی جائے اس موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کے ڈائریکٹر ریسرچ مولانا امان اللہ نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قانون کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے قوانین کا مقصد اسلامی اقدار کو نظر انداز کرکے مغربی قوانین کو اپنانا ہے انہوں نے بتایا کہ اسلام نے قرآن مجید میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ان ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے اس موقع پر کمیٹی کے اراکین محمد علی ، ملک عبدالغفار ، بسم اللہ خان نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے بعد اس قانون پر مزید بحث نہیں کی جاسکتی انہوں نے ترمیمی بل کی پیش کرنے والی رکن اسمبلی ماروی میمن کو کہا کہ آپ خواتین کو وارثت میں حصہ ملنے اور جہیز کی لعنت کے خاتمے کیلئے بل لائیں تو ہم بھرپور حمایت کرینگے اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین حافظ عبدالکریم نے کہا کہ اراکین کی
اکثریت نے بل کو مسترد کیا ہے اور اس پر مزید بحث کی گنجائش نہیں ہے بل پیش کرنے والی رکن اسمبلی ماروی میمن نے کہا کہ اسلام کے خلاف آئینی ترامیم پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم اگر سندھ اسمبلی نے اس بل کو منظور کیا ہے تو کیا انہوں نے خلاف اسلام کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر عمر کی حد والی ترامیم پر اعتراضات ہیں تو اس کو ہٹا دیں اور سزاؤں کو سخت کردیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل پر مزید کوئی بحث نہیں کی جائے گی ۔
کم عمری کی شادی،این اے کمیٹی مذہبی امور نے ترمیمی بل مسترد کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
مومنہ اقبال نے حمزہ حبیب سے نکاح کرلیا
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ
-
بنگلادیش کا بڑا فیصلہ، پاسپورٹ پر دوبارہ ”سوائے اسرائیل” لکھنے کا اعلان



















































