بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

کوئٹہ میں پولیو سینٹر کے قریب دھماکا، 14 ہلاک

datetime 13  جنوری‬‮  2016 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسدادِ پولیو سینٹر کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے سیٹلائٹ ٹاو¿ن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے.زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا جبکہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔دھماکے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا.واضح رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع گذشتہ 3 روز سے انسدادِ پولیو مہم جاری ہے اور مذکورہ سینٹر سے پولیو ٹیموں کو مختلف علاقوں میں بھیجا جارہا تھا.اس سے قبل بھی بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں تاہم یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی پولیو سینٹر کے قریب دھماکا کیا گیا ہے۔پاکستان میں انسدادِ پولیو کے سلسلے میں مشکلاتپاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پولیو وائرس پایا جاتا ہے۔ ملک میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث جون 2014 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے پولیو ویکسین کو لازمی قرار دیا تھا۔لیکن المیہ یہ ہے کہ کچھ پاکستانی والدین پولیو ویکسین کو حرام قرار دے کر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے گریز کرتے ہیں۔دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے بھی ملک میں خصوصاً قبائلی علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔عسکریت پسند پولیو ٹیموں کے اہلکاروں کو امریکی جاسوس قرار دیتے ہیں جبکہ اس کو مسلم بچوں کو بانجھ بنانے کی سازش بھی سمجھا جاتا ہے۔طالبان کا مو¿قف ہے کہ پولیو مہم اسلامی نظام کے خلاف ہے، لہٰذا جو بھی اس مہم کا حصہ بنے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ اب تک متعدد پولیو رضاکار اس بیماری کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…