پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مودی کے دورے کے بعد پاکستانی حکومت کا بھارت کو پہلا تحفہ،پاکستانیوں کو ”سرخ زہر“ کھلایاجانے لگا

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

پنگریو ( نیوزڈیسک) مودی کے دورے کے بعد پاکستانی حکومت کا بھارت کو پہلا تحفہ،پاکستانیوں کو ”سرخ زہر“ کھلایاجانے لگا، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کے اثرات ظاہر ہو نا شروع ہو گئے ہیں اور حکومت پاکستان نے واہگہ بارڈر کے ذریعے غیر معیاری اور ناقص کوالٹی کے حامل بھارتی ٹماٹروں کی ٹیکس فری در آمد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی شہریوں میں معدے کی بیماریاں مزید پھیل رہی ہیں، پنگریو سمیت زیریں سندھ کے علاقوں میں کاشت کئے جانے والے بہترین ذائقے اور اعلیٰ کوالٹی کے حامل ملکی ٹماٹروں کی نر خوں میں زبردست کمی ہو گئی ہے اور کاشت کاروں کو شدید معاشی نقصان ہورہا ہے اس ضمن میں ملکی منڈیوں کے ذرائع کے مطابق بھارتی ٹماٹروں کی در آمدسے قبل ملکی ٹماٹروں کے اٹھارہ کلو کے کریٹ کی قیمت چھ سو روپے تھی ناقص اور غیر معیاری ٹیکس فری بھارتی ٹماٹروں کی پاکستانی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر آمد کے باعث ملکی زراعت کو پہنچنے والے معاشی نقصان پر کاشت کار تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ملک کے کاشت کاروں اور زراعت کے مفادات کو ایک طرف رکھ کر بھارتی ٹماٹروں کی بڑے پیمانے پر در آمد کا فیصلہ کر کے ہزاروں کسانوں کا معاشی استحصال کیا ہے ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے بعد وفاقی حکومت نے واہگہ بارڈر کے راستے بھارت سے ناقص اور غیر معیاری کوالٹی کے حامل ٹماٹروں کی در آمد شروع کر دی گئی ہے اور بھارتی ٹماٹروں سے بھرے ٹریلر روزانہ پاکستان بھیجے جارہے ہیں ان بھارتی ٹماٹروں کی ملکی منڈیوں میں آمد کے باعث ملکی ٹماٹروںکی قیمتیں تیزی سے کم ہو نا شروع ہوگئی ہیں زیریں سندھ کی منڈیوں میں چند روز قبل تک چھ تا ساڑھے چھ سوروپے فی کریٹ فروخت ہو نے والے ٹماٹر اب تین سو روپے میں فروخت ہو رہے ہیں منڈی ذرائع کے مطابق بھارتی ٹماٹروں کی ملکی منڈیوں میں آمد کے بعد ملکی ٹماٹروں کی بے قدری ہو رہی ہے اور کسانوں کے اس فصل پر آنے والے اخراجات بھی نہیں مل رہے جس کی وجہ سے یہ کسان مقروض ہو رہے ہیں کاشت کار تنظیموں لاڑ آبادگار فورم، سندھ آبادگار تنظیم، ایوان زراعت، سندھ آبادگار بورڈ اور دیگر تنظیموں نے ملکی زراعت اور کسانوں کے مفادات کا خیال رکھے بغیر بھارت سے ٹیکس فری اور ناقص کوالٹی کے حامل ٹماٹروں کی بڑے پیمانے پر در آمد پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کسان تنظیموں کو اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے جس کے ملکی زراعت اور کسانوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ان کاشت کار تنظیموں نے وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے ٹیکس فری غیر معیاری اور ناقص کوالٹی کے حامل ٹماٹروں کی در آمد فوری طور بند کی جائے اور اس طرح کے فیصلے کر نے سے قبل کسان تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…