جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

سارک ممالک کے درمیان ریل، روڈ معاہدےکے امکانات پیدا ہوگئے

datetime 31  دسمبر‬‮  2015 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں جمی برف پگھلنے لگی ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں اور اب سارک ممالک کے درمیان ریل، روڈ معاہدے کا امکانات پیدا ہوگئے ہیں، جس کے بعد سارک ممالک کے عوام پورے خطے میں آزادانہ سفر کرسکیں گے۔انڈیا کے اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات اسی طرح مثبت سمت میں پروان چڑھتے رہے تو دونوں ملکوں کے باسیوں کے لیے پورے جنوبی ایشیا میں سڑک یا ریل کے ذریعے ہموار سفر جلد ہی ایک خوشگوار حقیقت ثابت ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان لاہور میں حالیہ ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نئی روح پھونک دی ہے اور اس ملاقات کے بعد جنوبی ایشیائی ممالک کے عوام کی سارک ریجن میں آزادانہ آمد و رفت کا معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔کئی ماہ کی رکاوٹ کے بعد ہندوستان، پاک۔ ہند سیکریٹری ٹرانسپورٹ کے درمیان ملاقات کی میزبانی کرے گا۔ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل معاہدے کے لیے پاک۔ ہند ٹرانسپوٹ سیکریٹریز جلد تفصیلات طے کریں گے، جس کے بعد سارک ممالک کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے وزرا کا اجلاس ہوگا جس میں معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔نئی دہلی میں تعینات ایک جنوبی ایشیائی سفارتکار کے مطابق پاکستان اور ہندوستان اگر ساتھ کام کرنے پر رضا مند ہوگئے، تو یہ پورے خطے کے لیے بہت اچھا ہوگا۔رپورٹ کے مطابق سارک ممالک کے درمیان یہ معاہدہ ہوجانے کی صورت میں پاکستان، ہندوستان، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور مالدیپ کے درمیان روڈ اور ریل کے ذریعے سفر ممکن ہو جائے گا، جبکہ اس معاہدے پر 2016 کے سارک اجلاس میں دستخط ہوسکتے ہیں جب نریندر مودی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان جائیں گے۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تاپی پائپ لائن منصوبے کے افتتاح اور نواز۔ مودی خیر سگالی ملاقات کے بعد نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان برف پگھلی ہے، جبکہ نریندر مودی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ علاقائی روابط اور پڑوسیوں سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کا یہ ہی بہترین موقع ہے۔واضح رہے کہ سارک ممالک کے درمیان موٹر وہیکل معاہدہ کئی سال سے زیر غور ہے، تاہم پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کے باعث اب تک اس معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…