اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ترک وزیر اعظم اسرائیل کے خلاف پھٹ پڑے،کیسے تفصیلات کلک کر کے پڑھیں

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

استمبول۔۔۔۔ ترک وزیراعظم داؤد اوغلو نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بینجمن نیتن یاہو کو شدت پسندوں کے مترادف قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ دونوں انسانیت کے مجرم ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی جانے والی بمباری اور ترکی کی بھیجی جانے والی امدادی کشتی پر اسرائیل کے حملے میں 10 ترک باشندوں کی ہلاکت، دہشت گردوں کی جانب سے پیرس پر ہونے والے حملوں کے برابر ہے۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے نیتن یاہو کو پیرس واقعے کے بعد دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کے سربراہان کے ساتھ ریلی میں شرکت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر اسرائیلی وزیر خارجہ ایوگڈور لائیبرمین نے ان کو ‘یہودی مخالف بدمعاش’ کہا تھا۔
اس کے بعد دونوں سابقہ اتحادیوں کے درمیاں لفظوں کی جنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ترک صدر کے ترجمان نے جمعرات کو کہا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے پیرس حملوں کو اسلام کے ساتھ جوڑنا ‘اسلام فوبیا’ ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔طیب اردوان کے ترجمان نے صدارتی ویب سائٹ پر جاری اس بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو اپنی جاریحانہ پالیسیز اور شدت پسندی کے پیچے چھپ کر دوسروں پر حملے کرنے کے رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ترک وزیر اعظم کا مزید کہنا ہے کہ جس طرح دہشت گردوں نے پیرس میں حملے کرکے انسانیت کیخلاف اقدامات کئے ہیں اسی طرح نیتن یاہو نے ملک کے سربراہ کے طور پر فلسطینی شہر غزہ میں معصوم بچوں کو بمباری کے ذریعے قتل، ہزاروں گھروں کو مسمار کیا۔ترکی نے 7 جنوری کو پیرس میں ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی اور یورپ میں پھیلتے ہوئے اسلام مخالف رویے پر مسلمانوں کے احساسات مجروح کرنے کیخلاف خبردار بھی کیا تھا۔جب کہ ترک وزیر اعظم نے پیرس میں ہونے والی فرانسیسی شہریوں کی ریلی میں بھی شرکت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…