منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ترک وزیر اعظم اسرائیل کے خلاف پھٹ پڑے،کیسے تفصیلات کلک کر کے پڑھیں

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

استمبول۔۔۔۔ ترک وزیراعظم داؤد اوغلو نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بینجمن نیتن یاہو کو شدت پسندوں کے مترادف قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ دونوں انسانیت کے مجرم ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی جانے والی بمباری اور ترکی کی بھیجی جانے والی امدادی کشتی پر اسرائیل کے حملے میں 10 ترک باشندوں کی ہلاکت، دہشت گردوں کی جانب سے پیرس پر ہونے والے حملوں کے برابر ہے۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے نیتن یاہو کو پیرس واقعے کے بعد دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کے سربراہان کے ساتھ ریلی میں شرکت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر اسرائیلی وزیر خارجہ ایوگڈور لائیبرمین نے ان کو ‘یہودی مخالف بدمعاش’ کہا تھا۔
اس کے بعد دونوں سابقہ اتحادیوں کے درمیاں لفظوں کی جنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ترک صدر کے ترجمان نے جمعرات کو کہا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے پیرس حملوں کو اسلام کے ساتھ جوڑنا ‘اسلام فوبیا’ ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔طیب اردوان کے ترجمان نے صدارتی ویب سائٹ پر جاری اس بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو اپنی جاریحانہ پالیسیز اور شدت پسندی کے پیچے چھپ کر دوسروں پر حملے کرنے کے رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ترک وزیر اعظم کا مزید کہنا ہے کہ جس طرح دہشت گردوں نے پیرس میں حملے کرکے انسانیت کیخلاف اقدامات کئے ہیں اسی طرح نیتن یاہو نے ملک کے سربراہ کے طور پر فلسطینی شہر غزہ میں معصوم بچوں کو بمباری کے ذریعے قتل، ہزاروں گھروں کو مسمار کیا۔ترکی نے 7 جنوری کو پیرس میں ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی اور یورپ میں پھیلتے ہوئے اسلام مخالف رویے پر مسلمانوں کے احساسات مجروح کرنے کیخلاف خبردار بھی کیا تھا۔جب کہ ترک وزیر اعظم نے پیرس میں ہونے والی فرانسیسی شہریوں کی ریلی میں بھی شرکت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…