پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کے مضمون نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا،امریکی منہ چھپانے لگے

datetime 13  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)گوانتاناموبے میں 13 سالہ سے پاکستان کا ایک بے گناہ ٹیکسی ڈرائیور قید ہے جس کو جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دور میں امریکا کے حوالے کرنے کے لیے لاپتہ کیا گیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے انگریزی اخبار دی نیوز (The News) میں ایک تحریر میں لکھا ہے کہ 13 سال بعد یکم دسمبر 2015 کو امریکی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ مصطفیٰ العزیز ال شمیری وہ نہیں جس کو وہ سمجھ رہے تھے۔واضح رہے کہ مصطفیٰ العزیز ال شمیری ایک یمنی شہری تھا جس کو امریکی فوج نے دہشت گردی کی تربیت دینے والے کیمپ کا امیر عبد القدوس سمجھ کر گرفتار کیا تھا۔عمران خان نے مزید لکھا ہے کہ 13 سال بعد اس کی مسلسل حراست کا جائزہ لینے کے لیے پیئروڈک ریویو بورڈ (پی آر بی) کا اجلاس ہوا جس میں امریکی فوج کا اعتراف سامنے آیا کہ اس کی شناخت میں غلطی ہوئی۔اسی یمنی باشندے کے ساتھ ایک پاکستانی کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ احمد ربانی کی زندگی بھی الشمیری کے ساتھ ساتھ متوازی کئی برس سے چلتی رہی۔13 سال قبل گرفتار ہونے والے احمد ربانی کے حوالے سے انہوں نے تحریر کیا کہ ربانی پاکستان کا شہری ہے، جو کہ کراچی میں ٹیکسی ڈرائیور تھا۔عمران خان نے کے مطابق جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں احمد ربانی کو امریکا کو مطلوب ‘گل حسن’ ہونے کی شبہ میں گرفتار کیا ، اس کی گرفتاری کے اگلے روز یہ بات سامنے بھی آ گئی کہ وہ گل حسن نہیں بلکہ احمد ربانی ہے، جنرل مشرف کی حکومت نے غلطی کی لیکن وہ پھر بھی حراست میں ہی رہا۔اس مضمون میں یہ بھی بتایا گیا کہ ربانی کو 540 دن (تقریباََ ڈیڑھ سال) امریکی ادارے سینٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے بدترین تشدد کا سامنا رہا جبکہ اس کو پاکستان سے گرفتاری کے بعد افغانستان لے جایا گیا تھا۔کراچی کے ٹیکسی ڈرائیور کے حوالے سے انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس کی بیوی کو 6 سال تک اپنے شوہر کی گرفتاری کا پتہ نہیں چلا اور اس کی گمشدگی ہی میں چند ماہ بعد اس کا بیٹا *جواد * پیدا ہوا، جواد اب 13سال کا ہو چکا ہے، جس سے وہ کبھی ملا ہی نہیں۔انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی کتاب ‘ان دی لائن آف فائر’ (In The Line of Fire) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پرویز مشرف کے کچھ حکام نے ربانی کو ‘سزاء4 ‘ پر بھیجنے کے 5 ہزار ڈالر وصول کیے۔عمران خان کے مطابق امریکی فوج نے احمد ربانی کو سماعت کا حق دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکتا۔احمد ربانی کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ انصاف کے حصول کے لیے وہ 2 سال سے بھوک ہڑتال پر ہے، اسے انتہائی تکلیف دہ انداز میں جبری طور پر کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، وہ معمول میں خون تھوکتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت پر زور دیتے ہوئے عمران خان نے لکھا ہے کہ اس (احمد ربانی) کا بنیادی حق ہے کہ حکومت پاکستان اس کو تحفظ فراہم کرے۔خیال رہے کہ امریکا میں قید پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کا افغانستان میں قید ہونے کا معاملہ عمران خان ہی سامنے لائے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…