پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ‘ خواجہ آصف کے بیان نے ہلچل مچا دی

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت آنے والی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو تحفظ دلانے کے لیے پاکستانی حکومت طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گی۔ ’تاپی‘ کے نام سے مشہور اس گیس پائپ لائن منصوبے پر تعمیر کا کام اتوار 13 اگست سے شروع ہو گا جس کے لیے پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم ترکمانستان پہنچ رہے ہیں۔ دس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی 1700 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کو دو سال میں مکمل ہونا ہے۔ یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے میں شامل تمام ملکوں کے لیے یہ پائپ لائن بہت اہم ہے اور خاص طور پر پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اس منصوبے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ’اسی لیے ہماری بھرپور کوشش ہوگی یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہو اور خاص طور پر اس منصوبے کو افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے جو ممکنہ خدشات لاحق ہو سکتے ہیں ان کا حل کیا جا سکے۔‘ اس سوال پر کہ پاکستان اس پائپ لائن کو تحفظ دینے کے لیے کیا افغانستان میں متحارب گروہوں، خاص طور پر طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا، وزیر دفاع نے کہا کہ ’ضرور استعمال کریں گے۔ اپنے مفاد کے لیے ہم جو بھی مثبت کردار ادا کر سکے ہم کریں گے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ یہ منصوبہ افغانستان کے لیے بھی بہت اہم ہے اس لیے کوئی بھی افغان فریق اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ انھوں نے 1990 کی دہائی میں اسی نوعیت کے ایک منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے امریکی کمپنی یونیکال کے ذریعے بننے والی گیس پائپ لائن کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ ’ہمیں اب بھی یقین ہے کہ طالبان شدت پسند اس منصوبے کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ یہ منصوبہ افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے بھی اہم ہے اور کوئی بھی افغان گروہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔‘ اس منصوبے کے بروقت مکمل ہو جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے نے مکمل تو ہونا ہے لیکن کچھ تاخیر ممکن ہے۔ ’اس پائپ لائن نے بننا تو ضرور ہے۔ اس میں کچھ دیر سویر تو ہو سکتی ہے یعنی اگر 2018 میں نہ مکمل ہوئی تو 2019 میں تو یہ مکمل ہو ہی جائے گی –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…