منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ‘ خواجہ آصف کے بیان نے ہلچل مچا دی

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت آنے والی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو تحفظ دلانے کے لیے پاکستانی حکومت طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گی۔ ’تاپی‘ کے نام سے مشہور اس گیس پائپ لائن منصوبے پر تعمیر کا کام اتوار 13 اگست سے شروع ہو گا جس کے لیے پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم ترکمانستان پہنچ رہے ہیں۔ دس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی 1700 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کو دو سال میں مکمل ہونا ہے۔ یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے میں شامل تمام ملکوں کے لیے یہ پائپ لائن بہت اہم ہے اور خاص طور پر پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اس منصوبے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ’اسی لیے ہماری بھرپور کوشش ہوگی یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہو اور خاص طور پر اس منصوبے کو افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے جو ممکنہ خدشات لاحق ہو سکتے ہیں ان کا حل کیا جا سکے۔‘ اس سوال پر کہ پاکستان اس پائپ لائن کو تحفظ دینے کے لیے کیا افغانستان میں متحارب گروہوں، خاص طور پر طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا، وزیر دفاع نے کہا کہ ’ضرور استعمال کریں گے۔ اپنے مفاد کے لیے ہم جو بھی مثبت کردار ادا کر سکے ہم کریں گے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ یہ منصوبہ افغانستان کے لیے بھی بہت اہم ہے اس لیے کوئی بھی افغان فریق اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ انھوں نے 1990 کی دہائی میں اسی نوعیت کے ایک منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے امریکی کمپنی یونیکال کے ذریعے بننے والی گیس پائپ لائن کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ ’ہمیں اب بھی یقین ہے کہ طالبان شدت پسند اس منصوبے کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ یہ منصوبہ افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے بھی اہم ہے اور کوئی بھی افغان گروہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔‘ اس منصوبے کے بروقت مکمل ہو جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے نے مکمل تو ہونا ہے لیکن کچھ تاخیر ممکن ہے۔ ’اس پائپ لائن نے بننا تو ضرور ہے۔ اس میں کچھ دیر سویر تو ہو سکتی ہے یعنی اگر 2018 میں نہ مکمل ہوئی تو 2019 میں تو یہ مکمل ہو ہی جائے گی –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…