ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سندھ حکومت میں کریک ڈاﺅن، بڑے بڑے برج الٹ گئے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اپنی کابینہ اور سندھ کی انتظامی مشینری میں اہم تبدلیوں کا منڈیٹ حاصل کرکے جمعرات کی شام دوبئی سے واپس کراچی پہنچ گئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی جانب سے دوبئی میں طلب کئے جانے والے اعلیٰ سطح کے ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لئے دو روز قبل متحدہ عرب امارات گئے تھے جہاں دو روز تک سیاسی امور اور سندھ حکومت کے معاملات پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہا ۔باخبر زرائع کا کہنا ہے کہ دوبئی اجلاس کے بعدسندھ کابینہ اور صوبے کی انتظامی مشینری میں ایک بار پھر بڑی تبدیلیوں کا امکان پیدا ہوگیاہے ۔ سینئرصوبائی وزیر نثار کھوڑو سے محکمہ اطلاعات واپس لیکرمولا بخش چانڈیو کو وزیر اعلیٰ سندھ کا مشیر بنائے جانے کا امکان ہے جبکہ جام خان شورو، شرجیل انعام میمن، نادیہ گبو ل اور شرمیلا فاروقی کے موجودہ محکموں میں رد و بدل کے ساتھ ساتھ بعض وزراءاور مشیروں کی کابینہ سے چھٹی کا بھی امکان طاہر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ نئی وزارت لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ناصر حسین شاہ کو محکمہ خوراک کا وزیر بنائے جانے کا امکان ہے۔ ادھر خواب دیکھنے والے صوبائی وزیر منظور وسان سے محکمہ خوراک واپس لے لی جائے گی جبکہ نثار کھوڑو ایک بار پھر تبدیلی کے بھنور میں ہیں اور اب محکمہ اطلاعات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق مولا بخش چانڈیو وزیر اعلی سندھ کے مشیربرائے اطلاعات ہونگے ۔ وزیر بے محکمہ میر ہزار خان بجارانی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں دوبارہ سروسز اینڈ ورکس کی وزارت سونپے جانے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے وزیر اعلیٰ سندھ کو یہ منڈیٹ دے دیدیا ہے کہ وہ پارٹی کی سیاسی اور سندھ حکومت کی انتطامی ضروریات کو مد نظر رکھ کر تمام فیصلے کریں۔ ایک باخبر ذریعہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت مجوزہ تبدیلوں پر عمل درآمد کے لئے احکامات جاری کردیں لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ پیر سے جو نیا ہفتہ شروع ہورہا ہے وہ سندھ کے لئے بہت سی انتطامی تبدیلیاں لیکر آرہا ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ تبدیلی کا یہ عمل محض سندھ کابینہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آئندہ دنوں میں صوبے کی بیوروکریسی میں بھی خاصی اکھاڑ پچھاڑ کا امکان ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ دوبئی اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بری شہرت کے حامل ان بیوروکریٹس کے حوالے سے بھی بریف کیا جن کی اہم محکموں میں تعیناتی پر مختلف وفاقی اداروں کو سخت تحفظات ہیں اور ایسے افسران کے باعث سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے شریک چئیرمین نے وزیر اعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ وہ وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور خراب شہرت کے حامل بیروکریٹس کو فوری طور پر ہٹادیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…