کراچی (این این آئی)گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ سکیم کا افتتاح کردیا
جس کے تحت ہر سال 16ارب روپے کے انعام دیئے جائینگے،سکیم میں شرکت مکمل مفت ،کسی فیس یا ٹکٹ کی خریداری کی ضرورت نہیں ہوگی،ماہانہ 100ڈالر یا زائد ترسیلات مسلسل تین ماہ وصول کرنے والے سکیم میں شرکت کے اہل ہوں گے۔۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ سٹیٹ بینک اور حکومت پچھلے چند ماہ سے پی بی اے کے ساتھ مل کر اس سکیم کی تیاری پر کام کر رہے تھے۔یہ سکیم خود انحصاری کے تحت مارکیٹ کی بنیاد پر کام کرے گی تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات بینکاری کے باضابطہ ذرائع سے وطن بھجوانے میں آسانی فراہم کی جائے،انہیں ترغیب دی جائے اور اس طرح ترسیلات حاصل کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی ترسیلات پاکستان کے طول و عرض میں مقیم لاکھوں خاندانوں کے لیے آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ان ہی ترسیلات سے ان کے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں، تعلیم اور صحت کی سہولت حاصل ہوتی ہے، اور سرمایہ کاری اور اقتصادی مواقع کے لیے وسائل مہیا ہوتے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے ملک کے بیرونی کھاتے میں آنے والے استحکام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی کرنٹ اکانٹ خسارہ مالی سال 22 میں ناپائیدار سطح تک پہنچ گیا تھا اور اس کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر تیزی سے کم ہو گئے تھے، اس خسارے کو اب قابلِ انتظام سطح تک لایا گیا ،
جس سے زرمبادلہ ذخائر کو مسلسل بڑھانے میں مدد ملی ہے۔اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر جو فروری 2023 میں گر کر 3.0 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اب 21.4 ارب ڈالر ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ زرمبادلہ ذخائر کی مسلسل مضبوطی کا سبب ماضی کے برعکس بیرونی قرض اکٹھا کرنے کے بجائے مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری ہے۔ گورنر نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہا اور کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی غیر معمولی کارکردگی کو اجاگر کیا جو مالی سال 26 میں 41.6 ارب ڈالر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ مالی سال 19 میں یہ 21.7 ارب ڈالر تھیں، اس مدت میں یہ تقریبا دگنے اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔گورنر جمیل احمد نے زور دیا کہ یہ اعدادوشمار اہم اظہاریوں میں صرف بہتری کو ظاہر نہیں کرتے، بلکہ یہ نہایت مشکلوں سے حاصل کیے گئے استحکام اور استقامت کے بھی عکاس ہیں، جس سے تیزی اور مندی کے چکروں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ پاکستانی معیشت کو نمو کی پائیدار راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے یہ تبدیلی لانے کے لیے متعدد پالیسی اور اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔ برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں ٹیکس ترغیبات دی ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے برہدف طویل مدتی فنانسنگ اور کارکردگی پر مبنی ری بیٹ اسکیمیں بنائیں۔روشن ڈجیٹل اکائونٹ کے دائرے میں بھی توسیع کی گئی ہے تا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاروں اور ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کے حامل پاکستانی باشندوں کو آر ڈی اے کے ذرائع سے سرمایہ کاری کا موقع مل سکے۔سٹیٹ بینک نے رسائی بڑھانے کے ضمن میں بھی اقداما ت کئے ہیں، حال ہی میں برطانیہ میں ایک آگاہی سیشن کا انعقاد بھی اس میں شامل ہے۔ مزید برآں، آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسروں کو فارن کرنسی اکائونٹس کھولنے ،ان اکائونٹس میں برآمدی آمدنی برقرار رکھنے میں سہولت دی گئی ہے۔
گورنر نے کہا کہ حکومت گزشتہ برسوں کے دوران ترسیلات زر ملک میں بھجوانے کیلئے باضابطہ ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی سکیمیں متعارف کراچکی ہے ،ان سکیموں سے مارکیٹ کی تشکیل ، مزید مالی اداروں کو ایکوسسٹم میں لانے، پاکستان کی ملکی اور عالمی رسائی میں توسیع اور ترسیلات زر کے بڑھتے حجم کو پروسیس کرنے کیلئے درکار انفراسٹرکچر مضبوط بنانے میں مدد ملی۔مارکیٹ کی تشکیل اور سکیموں کی لاگت بڑھنے کے باعث حکومت اور سٹیٹ بینک نے بینکاری صنعت کے قریبی اشتراک سے ایک زیادہ پائیدار، مارکیٹ پر مبنی ماڈل کی منصوبہ بندی اور اس پر بتدریج منتقلی انجام دی۔جمیل احمد نے ترسیلات زر کے باضابطہ ذرائع کو تقویت دینے میں بینکاری کی صنعت کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاسبان کو متعارف کرانا بھی اس منتقلی کی سمت ایک اور قدم ہے۔انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے پاکستانی معیشت میں اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام باضابطہ ذرائع کی کشش کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔ گورنر نے اسکیم کی تشکیل اور اس کا آغاز کرنے پر پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور بینکنگ انڈسٹری کی شراکت داری کو بھی سراہا۔شرکا کو سکیم پر بریفنگ دیتے ہوئے پی بی اے کے سی ای او اور سیکرٹری جنرل، منیر کمال نے کہا کہ پاسبان اسکیم اسٹیٹ بینک، حکومت اور بینکاری صنعت کی جانب سے بیرونی شعبے کو سہارا دینے کے لیے مربوط اقدامات کی تازہ ترین کوشش ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اسکیم کو بینکوں نے ارسال کنندہ کے بینک کی بنیاد پر تشکیل دیا ہے اور ترسیلاتِ زر کی وصولی کو مفت بنانے کے لیے بینکاری صنعت نے جولائی 2026 سے پورے سال کی جو رقم خرچ کرنی ہے وہ تقریبا 100 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال بینکوں نے نئے قرضوں اور اجرائے ثانی کیلئے برآمدی نومالکاری سہولت مارک اپ کو رضاکارانہ طور پر 3.0 پوائنٹس کم کر کے 4.50 فیصد کر دیا، جو 1,052 ارب روپے کے ای آر ایف کی حد میں ہے۔
اس سے حکومت کی برآمدات کے ذریعے اقتصادی ترقی کے ایجنڈے، اور اس کے ساتھ ایس ایم ای شعبے کی برآمدات کو فروغ دینے کیلئے بینکوں کے برآمدی اور درآمدی قرضوں کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے شرکا کو اسکیم کی اہم خصوصیات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ترسیلاتِ زر وصول کرنے والا جو کسی ایک سہ ماہی میں لگاتار تین ماہ اپنے بینک اکاونٹ میں ماہانہ 100 یا زائد ڈالر وصول کرے، وہ اسکیم میں شرکت کا اہل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ 100 ڈالر کے مساوی ترسیلاتِ زر کے وصول کنندہ کو ایک ڈجیٹل،(ناقابلِ منتقلی)انٹری نمبر(ٹکٹ)جاری کیا جائے گا، بشرطیکہ اسے لگاتار تین ماہ تک ترسیلاتِ زرِ کا مذکورہ حجم موصول ہو۔ مثال کے طور پر، اگر وصول کنندہ کو لگاتار تین مہینے تک ہر ماہ 100 ڈالر کے مساوی رقم وصول ہوتی ہے، تو اسے سہ ماہی کے تین انٹری نمبر ملیں گے،بڑی مالیت کی ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے کو وصول شدہ رقم کے تناسب سے اضافی انٹری نمبر ملیں گے۔ مثال کے طور پر، اگر وصول کنندہ اکتوبر میں 100ڈالر، نومبر میں 200ڈالر، اور دسمبر میں 300 ڈالر وصول کرتا ہے، تو اسے بالترتیب 1، 2 اور 3 انٹری نمبر ملیں گے، یوں سہ ماہی کے دوران اس کے پاس چھ انٹریز جمع ہوجائیں گی۔
ہر سہ ماہی میں مجموعی طور پر 2,521 نقد انعامات دیے جائیں گے، جن کی کل مالیت 4 ارب روپے ہوگی، پہلا انعام 10کروڑ روپے کا ایک انعام، دوسرا انعام 2.5 کروڑ روپے کے 20 انعامات، تیسرا انعام ایک کروڑ روپے کے 100 انعامات، چوتھا انعام 10لاکھ روپے کے 2,400 انعامات ہوں گے۔سکیم کے تحت سالانہ 16ارب روپے کے انعامات 10,000سے زائد خوش نصیبوں میں تقسیم کیے جائیں گیانعامات کی وسیع تر تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے انعامات زائد ترسیلاتِ زر والے خطوں میں مختص کیے جائیں گے، جن میں 50فیصد خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، 15فیصد برطانیہ، 15 فیصد یورپ، 10 فیصد شمالی امریکہ اور 10 فیصد دیگر ممالک کیلئے ہوں گے۔ پہلا انعام تمام خطوں سے ترسیلاتِ زر وصول کرنے والوں کیلئے دستیاب ہوگا۔قرعہ اندازی سہ ماہی ہو گی، پہلی قرعہ اندازی 15جنوری 2027 کو ہوگی، جس میں مالی سال 26 کی دوسری سہ ماہی، یعنی یکم اکتوبر 2026 سے 31 دسمبر 2026 کے دوران موصولہ قابلِ قبول ترسیلات شامل ہوں گی۔قرعہ اندازی ایک محفوظ، مکمل طور پر ڈجیٹل اور قابلِ محاسبہ طریقہ کار کے ذریعے کی جائے گی۔سکیم میں شرکت مکمل طور پر مفت ہے، کوئی بینک ترسیلات وصول کنندگان سے اسکیم میں شرکت کی کوئی فیس نہیں لے گا اور نہ ہی کسی ادائیگی، ٹکٹ کی خریداری، کم از کم بیلنس یا کسی دیگر عوض کا تقاضا کرے گا۔اس حوالے سے چیئرمین پی بی اے ، ظفر مسعودنے کہاکہ پاکستان کے بینکوں نے مسلسل اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کیلئے 80ارب روپے کی مراعات کی ذمہ داری سنبھالی، برآمد کنندگان کیلئے ایکسپورٹ ری فنانس شرحوں میں کمی کی، نجی شعبے، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی ریکارڈ سطح پر پہنچائی اور گردشی قرضے کے حل میں معاونت کی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی اس داستان کا اتنا ہی اہم حصہ ہیں، اسٹیٹ بینک اور حکومت کے اشتراک سے شروع کی جانے والی پاسبان اسکیم ان کے کردار کا اعتراف کرتی ہے۔



















































