جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں کوڈی پورٹ کرنے کاطریقہ انسانیت کی تضحیک کے متراد ف ہے ،وزیرداخلہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد((نیوزڈیسک)وفاقی وز یر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بین الاقوامی تنظیم برائے مائیگریشن پر واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت افغانستان، بنگلہ دیش، برما اور بھارت کے شہریوں کو جعلی طریقے سے حاصل کئے گئے کاغذات کے عوض بطور پاکستانی قبول نہیں کر سکتے،پاکستانیو ں کو ڈی پورٹ کرنے کا طریقہ انسانیت کی تضحیک اور پاکستانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ ہفتہ کو وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق بین الاقوامی تنظیم برائے مائیگریشن کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی تنظیم برائے مائیگریشن غیرممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے پہلے وزارتِ داخلہ سے کلیئرنس حاصل کرے۔ خط میں وزیر داخلہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں چند یورپی ممالک جن میں یونان سرفہرست ہے سے بغیر اطلاع اور تصدیق پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جو کہ متعلقہ قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ مراسلے میں تمام ائرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کی پابندی کی جائے کہ پاکستانی ڈی پورٹ ہونے والے صرف انہی اشخاص کو ٹکٹ جاری کئے جائیں جن کی شہریت کے کوائف کی تصدیق پہلے سے ہو چکی ہو۔ مراسلے میں وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ جو ائرلائنز پاکستانی امیگریشن قوانین کی پابندی نہ کریں ان پر اسی طرح بھاری جرمانے عائد کئے جائیں جسطرح غیرممالک میں پی آئی اے پر عائد ہوتے ہیں۔ وزیر داخلہ چو ہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ ہم بیرون ملک سے پاکستانیو ں کو ڈی پورٹ کرنے کے طریقہ کار سے قطعاً مطمئن نہیں،یہ انسانیت کی تضحیک اور پاکستانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ ڈی پورٹ کئے جانے والے پاکستانیوں کی نہ تو عزتِ نفس کا خیال رکھا جاتا ہے نہ ہی اس سلسلے میں کئے گئے باہمی معاہدوں کے قانونی تقاضوں کو پوررا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بیرون ملک واقع پاکستان کے چندسفارت خانوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے جسکی رپورٹ وز یرِاعظم کو بھیجی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کے کمشنر مائیگریشن کی سرکردگی میں وفد سے 23نومبر کو ہونے والی ملاقات میں ان تمام معاملات پر تفصیل سے مذاکرات کریں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…