ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے ہوتے تھے‘ ڈاک خانہ اہم ترین تھا‘ یہ چار کام کرتا تھا‘ خط وکتابت‘ کارگو‘ ٹیلی گرام اور بینک‘ ڈاک خانہ اس زمانے کا ’’ایزی پیسہ‘‘ تھا‘
لوگ اس کے ذریعے دوستوں اور خاندانوں کو رقمیں بھجواتے تھے‘ اسے ’’منی گرام‘‘ کہتے تھے‘ ہم ڈاک خانے میں رقم جمع کرا دیتے تھے اور ڈاکیہ دوسرے شہر میں اسے مطلوبہ شخص تک پہنچا دیتا تھا‘ ڈاکیہ اس رقم سے پانچ دس روپے بطور بخشیش بھی وصول کر لیتا تھا‘ سرکاری ملازمین کی پنشن ڈاک خانے کے ذریعے ملتی تھی لہٰذا ہر پہلی تاریخ کو ڈاک خانوں کے سامنے رش لگ جاتا تھا‘ ہمارے ڈاک خانے میں ایک بڑی سی میز پر ’’ٹیلی گرام‘‘ کی مشین لگی تھی‘ یہ ٹائپ رائیٹر قسم کی مشین تھی‘ لوگ اپنے قریبی ڈاک خانے میں جا کر اپنے رشتے داروں کو ٹیلی گرام بھجواتے تھے‘ اس کی قیمت ’’فی لفظ‘‘ کے حساب سے ہوتی تھی چناں چہ ٹیلی گرام کے پیغام بہت مختصر ہوتے تھے مثلاً ’’غفور از ڈائیڈ‘‘ اور ’’فضل از کمنگ‘‘ یا پھر ’’وائف ریچڈ‘‘ جوں ہی کسی شہر سے ٹیلی گرام آتا تھا تو پہلے ٹیلی گرام مشین میں حرکت پیدا ہوتی تھی‘ پھر گھنٹی بجتی تھی اور اس کے بعد پیغام ٹائپ ہونے لگتا تھا‘ پیغام کے نیچے بھیجے جانے والے شہر کا کوڈ ہوتا تھا‘ ٹیلی گرام کا پیغام اخباری کاغذ پر ٹائپ ہوتا تھا جس کا رول مشین پر لگا دیا جاتا تھا اور وہ ٹائپ ہونے کے ساتھ ساتھ رول ہوتا رہتا تھا‘ پیغام مکمل ہونے کے بعد بابو اسے مشین سے کھینچ کر کاٹ لیتا تھا اور پھر پڑھ کر متعلقہ حلقے کے ڈاکیے کے حوالے کر دیتا تھا‘ وہ پیغام فوری ڈیلیور کرنا ہوتا تھا چناں چہ ڈاکیہ سائیکل لے کر دوڑ پڑتا تھا‘
لوگ انگریز کے زمانے سے اسے ’’تار‘‘ کہتے تھے اور وہ عموماً بری خبر ہوتی تھی جوں ہی کسی گھر میں ’’تار‘‘ آتی تھی تو خواتین اٹھ کر سینہ کوبی اور بین شروع کر دیتی تھیں‘ ان کی آواز سن کر اڑوس پڑوس کی خواتین بھی ’’تار آئی‘ تار آئی‘‘ کی آوازیں لگاتی ہوئی سینہ کوبی میں شریک ہو جاتی تھیں‘ تار پڑھنے کی ذمہ داری بھی ڈاکیے کی ہوتی تھی‘ وہ اگر ضعیف ہوتا تھا اور اس دن اپنی عینک گھر بھول آتا تھا یا لفظ ٹھیک ٹائپ نہیں ہوتے تھے یا اسے پڑھنا نہیں آتا تھا تو صورت حال واقعی مزاحیہ ہو جاتی تھی‘ مجھے آج بھی یاد ہے‘ ہمارے گائوں میں ایک تار آئی‘ لائل پور (فیصل آباد) سے کسی نے اپنی والدہ کو سات بیٹیوں کے بعد بیٹے کی خوش خبری سنائی‘ پیغام ’’سیون سسٹرز برادر از بارن‘‘ تھا‘ اللہ جانتا ہے بارن ٹائپنگ کے دوران برن ہو گیا یا ڈاکیے نے اسے برن پڑھا تھا بہرحال ماں کو یہ پیغام ملا ’’سات بہنیں جل کر مر گئی ہیں‘‘ یہ پیغام سن کر دادی نے رونا پیٹنا شروع کر دیا‘ تھوڑی دیر میں محلے کی عورتیں بھی اس کے ساتھ شریک ہو گئیں اور یوں شام تک ان کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی‘ اس زمانے میں شادی اور انتقال کے وقت آدھا گائوں دوسرے گائوں جاتا تھا لہٰذا لوگ بچیوں کی تدفین کے لیے لائل پور جانے کے لیے تیار ہو گئے‘
آدھا گائوں جب ماتم اور سینہ کوبی کرتا ہوا فیصل آباد پہنچا تو وہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے‘ ماتمی شروع میں یہ سمجھتے رہے شاید لائل پور میں لوگ تدفین پر باجے بجاتے ہیں چناں چہ صورت حال یہ تھی گھر کے اندر باجے بج رہے تھے اور باہر تیس چالیس لوگ کھڑے ہو کر ماتم کر رہے تھے‘ نومولود کے والد نے باہر نکل کر بڑی مشکل سے ماتمیوں کو خاموش کرایا۔
اس زمانے میں ڈاکیوں کی باقاعدہ یونیفارم ہوتی تھی‘ وہ خاکی رنگ کی وردی میں ملبوس ہوتے تھے‘ ان کے سر پر کپڑے کی جناح کیپ ہوتی تھی جسے یہ فولڈ کر کے جیب میں ڈال لیتے تھے‘ ان کے پاس سرکاری سائیکل بھی ہوتی تھی‘ یہ جب کسی محلے میں داخل ہوتے تھے تو سارا محلہ ’’چٹھی آئی‘ چٹھی آئی‘‘ کا ورد کرتا ہوا باہر نکل آتا تھا جب کہ محلے کے بچے ڈاکیے کے پیچھے پیچھے چلنے لگتے تھے‘ ڈاکیہ ایک آدھ روپیہ لے کر خط پڑھ بھی دیتا تھا‘ یہ خط جب زنانہ یا مردانہ نکلتے تھے تو صورت حال دل چسپ ہو جاتی تھی‘ ڈاکیہ خط پڑھ رہا ہوتا تھا جس کے آخر میں ’’عطر کی شیشی پتھر پر توڑ دوں گا‘ خط کا جواب نہ آیا تو اپنا سر پھوڑ دوں گا‘‘ قسم کا کوئی شعر ہوتا تھا اور آدھا محلہ دہلیز پر کھڑا ہو کر خط سن رہا ہوتا تھا جب کہ جس شریف شخص یا خاتون کے نام خط ہوتا تھا وہ چھوٹے کمرے میں اپنا سر دروازے کے ساتھ مار رہی ہوتی تھی‘ ڈاک خانے میں فون کا بندوبست بھی تھا‘ یہ اس زمانے کا پی سی او تھا‘ لوگ فون کرنے کے لیے بھی ڈاک خانے جاتے تھے جب کہ ڈاک خانے میں اکائونٹ بھی کھلوایا جا سکتا تھا اور تھوڑی بہت رقم بھی جمع کرائی جا سکتی تھی‘
اس زمانے میں خط کے لفافوں پر ٹکٹ لگتی تھی‘ ڈاک کی چار قسمیں ہوتی تھیں‘ پہلی قسم میں ہم کاغذ پر خط لکھ کر اسے لفافے میں ڈالتے تھے اور ڈاک خانے چلے جاتے تھے‘ ڈاک لفافہ ڈاک خانے سے ملتا تھا جس پر 25 یا 50 پیسے کا ٹکٹ لگا ہوتا تھا‘ ہم اگر اس لفافے میں زیادہ کاغذ ٹھونس دیتے تھے تو بابو لفافے کو ترازو میں رکھ کر اس کا وزن کرتا تھا اور پھر وزن اور فاصلہ دونوں کا تعین کر کے مزید ٹکٹوں کی مالیت بتا دیتا تھا‘ مالیت کے تعین کے لیے اس کے پاس ایک کیلنڈر نما پیپر ہوتا تھا جس پر پاکستان کے تمام شہروں اور خط کے وزن کی تفصیل لکھی ہوتی تھی‘ وزن اوپر سے نیچے کی طرف آتا تھا‘ شہروں کے نام دائیں سے بائیں درج ہوتے تھے‘ وہ شہر کے نام کے سامنے لوہے کا فٹا (سکیل) رکھتا تھا‘ اوپر وزن کے خانے سے انگلی نیچے ڈراپ کرتا تھا اور شہر کے نام کے سامنے رک کر قیمت بتا دیتا تھا۔ہم وہ رقم اسے دیتے تھے اور وہ رجسٹر سے اتنی مالیت کے ٹکٹ (اسٹیمپ) کاٹ کر ہمیں دے دیتا تھا‘ ٹکٹ کی اوپر والی سائیڈ پر رقم اور محکمہ ڈاک پاکستان کی عبارت درج ہوتی تھی‘ اس پر سبز یا سرخ سیاہی میں پیٹرن بھی بنا ہوتا تھا جب کہ دوسری سائیڈ پر گوند ہوتی تھی‘ ہم گوند والی سائیڈ زبان پر رکھ کر گیلی کرتے تھے اور پھر ٹکٹ کو لفافے پر چپکا دیتے تھے‘ وہ جب تک اچھی طرح چپک نہیں جاتا تھا ہم اس وقت تک ٹکٹ کو انگوٹھے سے سہلاتے رہتے تھے‘ڈاک خانے کی دیوار کے ساتھ سٹینڈ لگا ہوتا تھا جس پر پین‘ کاغذ اور گوند کی بوتل رکھی ہوتی تھی‘ ہم سٹینڈ پر کھڑے ہو کر خط کے لفافے پر پتا لکھتے تھے اور ٹکٹوں کو اضافی گوند لگا کر مضبوط بناتے تھے‘ یہ خط بعدازاں پوسٹ باکس میں ڈال دیا جاتا تھا‘ خط ڈالنے کے بعد ہم پوسٹ باکس کو اوپر سے تھپتھپاتے ضرور تھے بلکہ بعض اوقات اسے زدوکوب بھی کرتے تھے‘ یہ روایت انگریز دور سے چلی آ رہی تھی‘ اس زمانے میں ڈاکیے یا ڈاک بابو کی رہائش پوسٹ آفس میں ہوتی تھی‘ پوسٹ باکس ڈاک خانے کے باہر ہوتا تھا‘ صارف خط ڈالنے کے بعد باکس کو تھپتھپا کر ڈاک بابو کو اطلاع دیتا تھا میں نے باکس میں خط ڈال دیا ہے یوں بابو خط نکال کر اسے پراسیس کر دیتا تھا‘ وہ دور بدل گیا لیکن باکس کو تھپتھپانے کی روایت جاری رہی چناں چہ ہم بھی باکس کو زدوکوب کرتے تھے بلکہ بعض لوگ جوتا اتار کر باکس کی مرمت بھی کر دیتے تھے‘ شہر کے مختلف حصوں میں باکس ہوتے تھے جن سے ڈاک خانے کا عملہ خط نکال کر مرکزی ڈاک خانے میں لے جاتا تھا‘ ان کے پاس خاکی رنگ کے تھیلے ہوتے تھے جن کا منہ سوت کی رسی سے باندھ دیا جاتا تھا اور پھر بابو انہیں کندھے پر رکھ کر لے جاتے تھے۔
ڈاک کا دوسرا سسٹم پوسٹ کارڈ اور ائیروگرام تھا‘ پوسٹ کارڈ گتے کا ایک ٹکڑا ہوتا تھا جس پر ٹکٹ چھپا ہوتا تھا‘ ٹکٹ کے نیچے خط بھیجنے کا پتا اور بھجوانے والے کے ایڈریس کا خانہ ہوتا تھا جب کہ بیک سائیڈ پر پیغام یا خط لکھا جاتا تھا‘ یہ کھلا خط ہوتا تھا جسے سب پڑھ سکتے تھے‘ یہ سستا ترین ’’سلوشن‘‘ تھا‘ ائیرو گرام کاغذ ہوتا تھا‘ اس پر بھی ٹکٹ چھپا ہوتا تھا‘ اس کے اندر پیغام لکھا جاتا تھا اور اس کے بعد اسے فولڈ کر دیا جاتا تھا‘ اس کے ایک کونے پر گوند لگی ہوتی تھی‘ لوگ گوند والے حصے کو زبان سے گیلا کر کے ائیروگرام کو فولڈ کرتے تھے جس کے بعد وہ لفافہ بن جاتا تھا‘ وہ عموماً ہوائی جہازوں کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے‘ ان کو ہلکا رکھنے کے لیے ان کے اندر اضافی کاغذ نہیں رکھا جا سکتا تھا‘ خط کا پورا متن صرف ایک ورق پر لکھا ہوتا تھا لہٰذا لوگ اس کا کوئی کونا خالی نہیں چھوڑتے تھے‘ دائیں بائیں حتیٰ کہ ٹکٹ کے نیچے بھی بریک پین سے کسی نہ کسی کا سلام لکھ دیا جاتا تھا‘ تیسرا آپشن ’’بک پوسٹ‘‘ تھا‘ ڈاک کے ذریعے کتابیں اور رسالے بھی بھجوائے اور منگوائے جا سکتے تھے‘ ان کے نرخ رعایتی ہوتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کتابیں پہنچائی جا سکیں تاہم کتابوں کو پیک نہیں کیا جا سکتا تھا‘ ان کے کونے خالی رکھنا ہوتے تھے تاکہ سٹاف دیکھ سکے‘ کیا واقعی یہ کتابیں ہی ہیں یا پھر جعل سازی کے ذریعے بک پوسٹ کی رعایت حاصل کر کے کوئی اور چیز بھجوائی جا رہی ہے اور چوتھا آپشن کارگو پوسٹ تھی‘ اس کے ذریعے لوگ تھوڑی بڑی چیزیں بھی دوسرے شہروں میں بھجوا سکتے تھے تاہم ان کا کرایہ زیادہ ہوتا تھا لہٰذا لوگ اس سہولت کا زیادہ فائدہ نہیں اٹھاتے تھے‘ ہم جب خط ڈاک خانے میں لے جاتے تھے یا پوسٹ باکس میں ڈالتے تھے تو بابوا سٹیمپ کے اوپر لوہے کی مہر لگا دیتے تھے‘
مہر پر ڈاک خانے کا نمبر‘ تاریخ اور شہر کا نام لکھا ہوتا تھا‘ مہر لگنے کے بعد ٹکٹ دوسری مرتبہ استعمال کے قابل نہیں رہتا تھا‘ دوسرے ڈاک خانے کی تفصیل بھی آ جاتی تھی‘ یہ خط جب مطلوبہ شہر میں پہنچتے تھے تو ان پر وہ بھی مہر لگاتے تھے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے یہ خط کس تاریخ کو ان کے پاس پہنچا‘ یہ مہریں تنازعے کی صورت میں بطور ثبوت عدالت اور تھانے میں بھی پیش کی جا سکتی تھیں لہٰذا انہیں کڑی نگرانی میں سیف میں رکھا جاتا تھا‘ ڈاک خانے کا منیجر روز صبح اس تاریخ کی مہر نکال کر بابوئوں کے حوالے کرتا تھا اور شام کے وقت باقاعدہ اندراج کر کے اسے دوبارہ واپس سیف میں رکھتا تھا‘ ہر پوسٹ آفس میں 365 دنوں کی مہریں ہوتی تھیں اگر یہ گم ہو جاتی تھیں تو باقاعدہ پولیس کیس بن جاتا تھا‘ ڈاک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ‘ خط چوری یا ٹمپرڈ کرنا یا ڈاکیے کا راستہ روکنا جرم تھا اور پولیس ملزم کو باقاعدہ گرفتار کر لیتی تھی‘ خط کی واپسی بھی ممکن ہوتی تھی لیکن اس کے لیے بھجوانے والے کو واپسی کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا یا پھر وہ شروع میں ہی ڈبل ٹکٹ لگادیتا تھا لیکن یہ سسٹم میرے دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گیا‘ آج ان میں سے کوئی چیز زندہ سلامت نہیں‘ میں نے جب 1997ء میں کالم لکھنا شروع کیا تو مجھے شروع میں سینکڑوں خط آتے تھے‘ میں ان میں سے بعض کے جواب بھی دیتا تھا‘ لوگ خط میں جوابی لفافہ بھی ڈال دیتے تھے تاکہ مجھ پر بلاوجہ مالی بوجھ نہ پڑے لیکن یہ خط آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے اور ان کی جگہ ایس ایم ایس‘ ای میل اور اب واٹس ایپ نے لے لی‘ اب موبائل فون سب کچھ ہو چکا ہے۔ (جاری ہے)



















































