منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغان یونیورسٹی طلبہ اور داعش کے مابین رابطے، تفتیش جاری

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کابل (نیوزڈیسک) کابل سے بدھ اٹھارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض اور افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے حق میں ایک مظاہرہ کرنے پر جن دو درجن سے زائد یونیورسٹی طلبہ کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کے بارے میں اس حوالے سے چھان بین جاری ہے کہ آیا ملکی یونیورسٹیوں کے ان نوجوان طالب علموں اور داعش کے مابین باقاعدہ رابطے پائے جاتے ہیں۔ہندوکش کی اس ریاست کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ترجمان جاوید فیصل نے آج کہا کہ کابل حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے طور پر افغان یونیورسٹیاں شدت پسندانہ سرگرمیوں کا گڑھ نہ بنیں۔
داعش کے حق میں مظاہرہ کرنے پر جن 27 افغان یونیورسٹی طالب علموں کو اسی ہفتے گرفتار کیا گیا تھا، انہوں نے چند روز قبل داعش یا دولت اسلامیہ کے حق میں مظاہرہ کیا تھا اور ان کا تعلق مشرقی افغان شہر جلال آبا دکی ننگرہار یونیورسٹی سے بتایا گیا ہے۔افغانستان کی نیشنل انٹیلیجنس ایجنسی کے مطابق جن طالب علموں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان کے قبضے سے حکام نے چھاپے کے دوران مختلف طرح کے پرچم اور کئی طرح کا دہشت گردانہ مواد بھی برآمد کیا تھا۔ ان طالب علموں نے ننگرہار یونیورسٹی کیمپس کی حدود میں داعش کی حمایت میں مظاہرہ گزشتہ ہفتے کیا تھا۔داعش کے عسکریت پسند صوبے ننگرہار میں کافی حد تک اپنے قدم جما چکے ہیںایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کی حامی مقامی عسکریت پسند تنظیموں اور گروپوں کے جہادیوں نے اس سال کے دوران خاص کر مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں کافی حد تک نہ صرف اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے بلکہ وہ وہاں اپنے قدم جمانے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔
داعش کے حامی عسکریت پسند گروپوں کے ان جہادیوں کی اکثر افغان طالبان اور ملکی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور ان کے بارے میں سکیورٹی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب افغان علاقوں میں چند اضلاع پر کنٹرول بھی حاصل کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…