اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

افغان یونیورسٹی طلبہ اور داعش کے مابین رابطے، تفتیش جاری

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کابل (نیوزڈیسک) کابل سے بدھ اٹھارہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض اور افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے حق میں ایک مظاہرہ کرنے پر جن دو درجن سے زائد یونیورسٹی طلبہ کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کے بارے میں اس حوالے سے چھان بین جاری ہے کہ آیا ملکی یونیورسٹیوں کے ان نوجوان طالب علموں اور داعش کے مابین باقاعدہ رابطے پائے جاتے ہیں۔ہندوکش کی اس ریاست کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ترجمان جاوید فیصل نے آج کہا کہ کابل حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے طور پر افغان یونیورسٹیاں شدت پسندانہ سرگرمیوں کا گڑھ نہ بنیں۔
داعش کے حق میں مظاہرہ کرنے پر جن 27 افغان یونیورسٹی طالب علموں کو اسی ہفتے گرفتار کیا گیا تھا، انہوں نے چند روز قبل داعش یا دولت اسلامیہ کے حق میں مظاہرہ کیا تھا اور ان کا تعلق مشرقی افغان شہر جلال آبا دکی ننگرہار یونیورسٹی سے بتایا گیا ہے۔افغانستان کی نیشنل انٹیلیجنس ایجنسی کے مطابق جن طالب علموں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان کے قبضے سے حکام نے چھاپے کے دوران مختلف طرح کے پرچم اور کئی طرح کا دہشت گردانہ مواد بھی برآمد کیا تھا۔ ان طالب علموں نے ننگرہار یونیورسٹی کیمپس کی حدود میں داعش کی حمایت میں مظاہرہ گزشتہ ہفتے کیا تھا۔داعش کے عسکریت پسند صوبے ننگرہار میں کافی حد تک اپنے قدم جما چکے ہیںایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کی حامی مقامی عسکریت پسند تنظیموں اور گروپوں کے جہادیوں نے اس سال کے دوران خاص کر مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں کافی حد تک نہ صرف اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے بلکہ وہ وہاں اپنے قدم جمانے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔
داعش کے حامی عسکریت پسند گروپوں کے ان جہادیوں کی اکثر افغان طالبان اور ملکی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور ان کے بارے میں سکیورٹی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب افغان علاقوں میں چند اضلاع پر کنٹرول بھی حاصل کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…