جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

امریکہ سعودی عرب اسلحہ ڈیل اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو گی،سربراہ اتحادی فوج

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ریاض(نیوزڈیسک)یمن میں آئینی حکومت کی بحالی اور حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنر عسیری نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے گولہ بارود کے معاہدے کے بعد اتحادی فوج کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے ریاض کو جدید نوعیت کے گولہ بارود اور دیگر اسلحہ کی فراہمی سے غیرملکی مداخلت کو روکنے اور دشمن کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یمن میں جاری فوجی آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے بھی یہ ڈیل اہم کردار ادا کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ امریکا کا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے اسلحہ کی تازہ ڈیل دونوں ملکوں کے یمن میں جاری آپریشن کے حوالے سے ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ دونوں ملکوں نے یمن میں آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے یہ طے پایا ہے کہ یمن میں شہری آبادی کو گولہ باری کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران یمن کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔خیال رہے کہ رواں ماہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا ان کے ملک نے سعودی عرب کی جانب سے 17 ہزار کی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کی درخواست منظور کر لی تھی۔ جس کے بعد امریکا نےریاض کو 1.29 بلین ڈالر مالیت کا جنگی سازو سامان فروخت کیا تھا۔ اس اسلحہ اور گولہ بارود کو یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں دولت اسلامی “داعش” کے خلا ف استعمال کیا جائے گا۔سعودی عرب کی جانب سے “بی فوائی 2″، “بی ایل یو117” اور ہزاروں کی تعداد میں جدید اسمارٹ بم اور پرانے ماڈل کے بموں کی فراہمی کی درخواست دی گئی تھی۔امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی امریکی صدر باراک اوباما کی اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کے اعلانات کا حصہ ہیں جو انہوں نے ایران متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بعد خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی سلامتی کے حوالے سے کیے تھے۔رواں سال ستمبر میں سعودی عرب سمجھوتے کے تحت واشنگٹن سے “پیٹریاٹ بی اے سے 3” 600 کی تعداد میں خرید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ “لوک ھیڈ مارٹن” امریکی اسلحہ ساز فرم ان میزائلوں کی مالیت 5.4 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔اس کے علاوہ امریکا نے سعودی عرب کو”لیٹوریل” نامی چار جنگی کشتیاں بھی 11.25 ارب ڈالر میں فرخت کی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…