جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ سعودی عرب اسلحہ ڈیل اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو گی،سربراہ اتحادی فوج

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ریاض(نیوزڈیسک)یمن میں آئینی حکومت کی بحالی اور حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنر عسیری نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے گولہ بارود کے معاہدے کے بعد اتحادی فوج کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے ریاض کو جدید نوعیت کے گولہ بارود اور دیگر اسلحہ کی فراہمی سے غیرملکی مداخلت کو روکنے اور دشمن کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یمن میں جاری فوجی آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے بھی یہ ڈیل اہم کردار ادا کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ امریکا کا اور سعودی عرب کے درمیان طے پائے اسلحہ کی تازہ ڈیل دونوں ملکوں کے یمن میں جاری آپریشن کے حوالے سے ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ دونوں ملکوں نے یمن میں آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے یہ طے پایا ہے کہ یمن میں شہری آبادی کو گولہ باری کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران یمن کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔خیال رہے کہ رواں ماہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا ان کے ملک نے سعودی عرب کی جانب سے 17 ہزار کی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کی درخواست منظور کر لی تھی۔ جس کے بعد امریکا نےریاض کو 1.29 بلین ڈالر مالیت کا جنگی سازو سامان فروخت کیا تھا۔ اس اسلحہ اور گولہ بارود کو یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں دولت اسلامی “داعش” کے خلا ف استعمال کیا جائے گا۔سعودی عرب کی جانب سے “بی فوائی 2″، “بی ایل یو117” اور ہزاروں کی تعداد میں جدید اسمارٹ بم اور پرانے ماڈل کے بموں کی فراہمی کی درخواست دی گئی تھی۔امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی امریکی صدر باراک اوباما کی اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کے اعلانات کا حصہ ہیں جو انہوں نے ایران متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بعد خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی سلامتی کے حوالے سے کیے تھے۔رواں سال ستمبر میں سعودی عرب سمجھوتے کے تحت واشنگٹن سے “پیٹریاٹ بی اے سے 3” 600 کی تعداد میں خرید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ “لوک ھیڈ مارٹن” امریکی اسلحہ ساز فرم ان میزائلوں کی مالیت 5.4 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔اس کے علاوہ امریکا نے سعودی عرب کو”لیٹوریل” نامی چار جنگی کشتیاں بھی 11.25 ارب ڈالر میں فرخت کی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…