جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں شیشہ کیفوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سپریم کورٹ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو شیشہ کیفوں کے خلاف فوری کریک ڈون کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ ان میں سے متعدد شیشہ کیفوں میں منشیات بھی فروخت کی جارہی ہے لیکن انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملک بھر میں قائم ہونے والے شیشہ مراکز کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کی۔عدالت نے چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی سے متعلق حکومت نے ایک آرڈر جاری کیا تھا کیا اس حکم پر عمل درآمد ہوسکا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ تک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کروائیں جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پبلک مقامات پر مخص سگریٹ نوشی کی ممنانعت کے بورڈ آویزاں کرکے معاملے کو نمٹا دیا گیا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو نشے کا عادی بنایا جارہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔سندھ حکومت کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں متعدد شیشہ کیفے کو نہ صرف بند کردیا گیا ہے بلکہ اْنھیں جرمانے بھی کیے گئے ہیں تاہم اس رپورٹ میں ان مراکز کی تعداد کا ذکر نہیں ہے۔صوبہ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ شیشہ کیفے پر پابندی لگانے سے متعلق ایک بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل تو گذشتہ برس پیش کیا گیا تھا لیکن ابھی تک تو اس بارے میں قانون سازی نہیں کی گئی۔عدالت کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب اور سندھ میں شیشہ کیفے سے متعلق زیادہ شکایات ہیں جن کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔وفاق کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں نوے فیصد شیشہ کیفے بند کردیے گئے ہیں۔عدالت نے چاروں صوبوں سے شیشہ کیفے کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…