منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

یکم دسمبر سے شکار پر سے 2 ماہ کے لئے پابندی اٹھانے کا فیصلہ

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور (آن لائن) ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات خالد ایاز نے کہا ہے کہ ریجنل ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اعزازی گیم وارڈرنز سے حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں تیتر اور سی سی( Partridge and See See) تیتر کے شکار کے لئے یکم دسمبر2015ءسے31جنوری 2016تک دو ماہ کے لئے31 تحصیلیں کھولنے بارے اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس ضمن میں ایڈمنسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے بارے درخواست کردی گئی ہے- انہوں نے یہ بات گزشتہ روز یہاں شکار سیزن کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں تمام متعلقہ افسران بھی موجودتھے- انہوں نے کہا کہ جنگلی پرندوں کے شکار کی حتمی اجازت دیتے وقت اس امر کا خصوصی طورپر خیال رکھاگیا ہے کہ شکاری تمام جنگلی پرندوں کو شکار نہ کریں تاکہ ان کی نسل کی افزائش بھی ہوتی رہے-خالد ایاز نے کہا کہ تیتر اور سی سی کے شکار کے لئے صوبہ کی 31تحصیلوں جن میں حسن ابدال اور پنڈی گھیپ، کلرسیداں اور ٹیکسلا، تلاگنگ ، پنڈدادنخان،کوٹ مومن اور بھلوال ، بھکر، خوشاب، میانوالی ، گجرات اور کھاریاں ، پھالیہ ، گوجرانولہ اور وزیر آباد، حافظ آباد ، پسرور اور ڈسکہ، ظفر وال ، مریدکے اور شرقپور، ننکانہ صاحب ، چونیاں اور پتوکی ، دیپالپور، چک جھمرہ اورسمندری، ٹوبہ ٹیک سنگھ اورگوجرہ، احمد پور سیال ،بھوانہ، چیچہ وطنی، پاکپتن، کبیر والا، میلسی ، کہروڑپکا، شجاع آباد، لیہ، مظفر گڑھ اور جتوئی اور کوٹ چٹا شامل ہیں-ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے محفوظ قراردی گئی جگہوں اورنیشنل پارکس میں ہرقسم کے شکار کی ممانعت ہوگی تاہم ڈائریکٹر جنرل کے دفتر سے جاری کئے جانے والے اجازت نامے پر گیم رینرروز میں شکار کھیلا جائے گا- انہوں نے کہا کہ تیتراور سی سی کی بیگ لمٹ ترمیمی ایکٹ 2007کے شیڈول(ون) کے مطابق ہوگی- شکار کے لئے خود کار اسلحہ ، رپیٹرگنز، گاڑیاں اور جیپ وغیرہ استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…