کراچی(این این آئی)ماہرین صحت نے ویپ یا الیکٹرانک سگریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے استعمال سے پھیپھڑوں، دل، منہ اور ذہنی صحت سمیت جسم کے مختلف حصے متاثر ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض افراد ویپ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھتے ہیں، تاہم اسے بے ضرر قرار نہیں دیا جاسکتا۔تحقیقی جائزوں کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد میں سانس سے متعلق مسائل، دل کے امراض اور دیگر صحت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا رجحان بھی ماہرین کے لیے باعث تشویش ہے۔ماہرین کے مطابق الیکٹرانک سگریٹ سے خارج ہونے والے بخارات میں نکوٹین، ذائقہ پیدا کرنے والے اجزا اور مختلف کیمیائی مادے شامل ہوسکتے ہیں، جو پھیپھڑوں میں جلن اور سوزش کا باعث بن سکتے ہیں۔ طویل عرصے تک ویپ کے استعمال سے پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر ہونے اور سانس کی دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ماہرین نے کہاکہ ایسے افراد جو سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بجائے روایتی سگریٹ کے ساتھ ویپنگ بھی جاری رکھتے ہیں، ان کے لیے صحت کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ویپ اور پھیپھڑوں کے سرطان کے درمیان براہ راست طویل مدتی تعلق پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ویپ میں موجود نکوٹین دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ کرسکتی ہے، جبکہ خون کی شریانوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق نکوٹین کے مسلسل استعمال سے دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔تحقیقی جائزوں میں ویپ استعمال کرنے والے بعض نوجوانوں میں جسمانی فٹنس اور ورزش کی صلاحیت متاثر ہونے، سانس پھولنے اور تھکاوٹ جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ویپنگ کا نوجوانوں کی جسمانی کارکردگی پر اثر ایک اہم صحت عامہ کا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
ویپ کے استعمال سے منہ میں خشکی، مسوڑھوں کی خرابی اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ویپ کے محلول کو گرم کرنے کے نتیجے میں بعض کیمیائی اجزا پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم منہ کے سرطان کے خطرے سے متعلق حتمی شواہد کے لیے مزید طویل مدتی تحقیق ضروری ہے۔نکوٹین ایک عادت بنانے والا مادہ ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے طلب اور انحصار پیدا ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نکوٹین کی طلب پوری نہ ہونے کی صورت میں بے چینی، چڑچڑاپن، ذہنی دباؤ اور مزاج میں تبدیلی جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں، جبکہ نوجوانوں میں نکوٹین کا استعمال دماغی نشوونما کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث ہے۔ماہرین نے مزید خبردار کیا کہ ویپ یا الیکٹرانک سگریٹ کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے سے منہ اور سانس کے ذریعے جراثیم کی منتقلی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ماہرین صحت نے کہا کہ جو افراد پہلے سے سگریٹ نوشی نہیں کرتے انہیں ویپنگ شروع نہیں کرنی چاہیے، جبکہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مند افراد کو ماہرین صحت سے مشورہ کرکے ثابت شدہ طریقوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے کے لیے ویپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام بھی ضروری ہے۔



















































