ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کے انتظام کے لیے کمرشل بینکوں پر نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ مرکزی بینک   کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے تحت تمام بینکوں کو فروخت ہونے والے بانڈز کی رقم اسی روز کلیئر اور سیٹل کرنا ہوگی۔

اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں بینکوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ پریمیم پرائز بانڈز سے متعلق تمام لین دین کی معلومات مقررہ وقت کے اندر فراہم کریں۔ نئی پالیسی کے مطابق فروخت کی تفصیلات ڈیٹا ایکوزیشن پورٹل کے ذریعے رپورٹ کی جائیں گی۔

مرکزی بینک کے مطابق موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن متعلقہ بینک کے اکاؤنٹ سے فروخت شدہ بانڈز کی رقم روزانہ کی بنیاد پر منہا کرے گی تاکہ مالی معاملات میں شفافیت اور بروقت تصفیہ یقینی بنایا جا سکے۔

تاخیر کی صورت میں جرمانہ نما چارجز

اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بینک فروخت کی گئی رقم کا تصفیہ مقررہ دن میں نہ کر سکا تو اسے تاخیر کے دوران رقم کے استعمال پر اضافی چارجز ادا کرنا ہوں گے۔

سرکلر کے مطابق یہ چارجز ہر دن کے حساب سے اسٹیٹ بینک کی اوور نائٹ ریورس ریپو سیلنگ ریٹ کے مطابق وصول کیے جائیں گے۔ ان چارجز کا حساب اسٹیٹ بینک کے کراچی دفتر میں کیا جائے گا اور متعلقہ رقم براہِ راست بینک کے اکاؤنٹ سے کاٹ کر مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔

غلط یا نامکمل رپورٹنگ کی ذمہ داری بینک پر ہوگی

مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بینک کی جانب سے پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت، منتقلی یا انکیشمنٹ سے متعلق معلومات غلط، نامکمل یا تاخیر سے فراہم کی گئیں اور اس کے نتیجے میں کسی صارف کو منافع یا انعامی رقم کی ادائیگی میں غلطی ہوئی تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ بینک پر عائد ہوگی۔

البتہ اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ جہاں قانون اجازت دیتا ہو وہاں قابلِ اطلاق انکم ٹیکس کی رقم میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کی جا سکے گی۔

اس نئے نظام کا مقصد پریمیم پرائز بانڈز کے لین دین کو مزید منظم بنانا، بروقت رپورٹنگ کو یقینی بنانا اور مالیاتی معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…