جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا

datetime 1  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد نیوز ڈ یسک) طبی ماہرین نے دانتوں میں کیڑا لگنے کے علاج کے لیے ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں نہ ڈرلنگ کی ضرورت ہوتی ہے،

نہ انجیکشن لگتا ہے اور نہ ہی مریض کو بے ہوش کرنا پڑتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق ایک مخصوص محلول چند سیکنڈ میں دانتوں کی خرابی کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً کم عمر بچوں کے لیے یہ طریقہ بڑی سہولت فراہم کرتا ہے۔امریکا میں ہونے والی ایک وسیع تحقیق میں معلوم ہوا کہ سلور ڈائی امائن فلورائیڈ (Silver Diamine Fluoride – SDF) نامی محلول دودھ کے دانتوں میں موجود کیڑے کو مزید بڑھنے سے روکنے میں کامیاب رہا۔ محققین کے مطابق اس محلول کے استعمال سے علاج کیے گئے نصف سے زائد دانتوں میں خرابی کا عمل رک گیا۔اس طریقۂ علاج میں دانت کو تراشنے یا خراب حصہ نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرِ دندان ایک چھوٹے اسپنج نما آلے کی مدد سے محلول کو براہِ راست متاثرہ حصے پر لگاتے ہیں، جس میں ہر دانت پر صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ روایتی علاج میں اکثر فلنگ، ڈرلنگ یا بعض اوقات مکمل بے ہوشی کے ذریعے سرجری کرنا پڑتی ہے، جبکہ یہ نیا طریقہ ان تمام مراحل سے بچا سکتا ہے۔ اس سے بچوں میں درد، انفیکشن اور پیچیدہ علاج کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔

البتہ ماہرین نے اس علاج کا ایک اہم پہلو بھی واضح کیا ہے۔ چونکہ اس محلول میں چاندی شامل ہوتی ہے، اس لیے دانت کا متاثرہ حصہ مستقل طور پر سیاہ ہو جاتا ہے، جو اس کا نمایاں سائیڈ ایفیکٹ سمجھا جاتا ہے۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف مشی گن کی سربراہی میں کی گئی، جس کے نتائج طبی جریدے JAMA Pediatrics میں شائع ہوئے۔ تحقیق کے تیسرے مرحلے میں چھ سال سے کم عمر 830 بچوں کو شامل کیا گیا، جن کا انتخاب مشی گن، نیویارک اور آئیووا کے مختلف ڈینٹل کلینکس اور طبی مراکز سے کیا گیا تھا۔تحقیق کے مطابق ہر چھ ماہ بعد SDF کے استعمال سے تقریباً 38 فیصد متاثرہ دانتوں میں خرابی کا عمل مکمل طور پر رک گیا، جبکہ مجموعی طور پر نصف سے زیادہ دودھ کے دانت مزید خراب ہونے سے محفوظ رہے۔تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف ڈینٹسٹری کی پروفیسر مارگریٹا فونٹانا کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف مؤثر بلکہ محفوظ بھی ہے، اور ایک سال کی عمر کے بچوں میں بھی اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ علاج خاص طور پر کم عمر بچوں، بزرگ افراد، جسمانی یا ذہنی معذوری رکھنے والے مریضوں اور دانتوں کے علاج سے خوفزدہ افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دانتوں میں کیڑا لگنا بچوں میں سب سے عام دائمی بیماریوں میں شمار ہوتا ہے، جو شدید درد، انفیکشن، کھانے پینے میں دشواری، تعلیمی حاضری میں کمی اور بار بار علاج کی ضرورت کا سبب بن سکتی ہے۔یہ تحقیق 2018 میں شروع ہوئی تھی اور کورونا وبا کے دوران درپیش رکاوٹوں کے باوجود جاری رہی۔ اس منصوبے کے لیے امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل اینڈ کرینیوفیشل ریسرچ نے 12 ملین ڈالر سے زائد فنڈز فراہم کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…