اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قانونی ماہر اور تجزیہ کار منیب فاروق نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے
سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے سیاسی مستقبل سے متعلق اہم دعویٰ کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مستقبل کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، تاہم موجودہ قانونی اور سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال ایک خاص سمت کی طرف اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق ایک قانون کے طالب علم کی حیثیت سے اور دستیاب مستند معلومات کی بنیاد پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے عملی طور پر فیصلہ ہو چکا ہے۔منیب فاروق کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں سابق وزیراعظم کا سیاسی راستہ پہلے ہی محدود ہو چکا تھا، جبکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ان کے مطابق اب متعلقہ مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ سے آئینی عدالت منتقل کیے جائیں گے، جہاں ممکنہ طور پر وہی نوعیت کا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے جس کا قانونی حلقوں میں اندازہ لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قانونی پیش رفت اور آئینی طریقۂ کار کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی سمت کافی حد تک واضح نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کے ممکنہ نتائج کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں، کیونکہ جاری قانونی عمل مستقبل کی تصویر واضح کرتا دکھائی دیتا ہے۔
عمران خان کا سیاسی fate سیل کر دیا گیا ہے، پہلے بھی سیل تھا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے نے اب مہر ثبت کر دی ہے، ہائیکورٹ سے کیس آئینی عدالت جائے گا اور آئینی عدالت سے وہی فیصلہ ہونا ہے جو ہونا ہے، منیب فاروق کے ذریعے ایک اور پیغام آ گیا pic.twitter.com/O6ROwqandw
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) July 25, 2026



















































