اسلام آباد (نیوز ڈیسک)محکمہ تعلیم سندھ نے والدین سے اضافی یا خفیہ چارجز وصول کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز رفیعہ جاوید کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بعض نجی اسکول منظور شدہ ٹیوشن فیس سے زیادہ رقم وصول کرنے کے ساتھ مختلف ناموں پر اضافی فیسیں بھی عائد کر رہے ہیں، جو متعلقہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
محکمہ تعلیم نے تمام نجی اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ وہ صرف وہی فیس وصول کریں جس کی سرکاری سطح پر منظوری دی گئی ہو۔ ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ فیسوں کی مکمل تفصیلات اسکول کے نوٹس بورڈ پر نمایاں انداز میں آویزاں کی جائیں، جبکہ والدین کی درخواست پر منظور شدہ فیس سے متعلق سرکاری دستاویزات کی نقل بھی فراہم کی جائے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی نجی اسکول اضافی یا پوشیدہ فیسیں وصول کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ تمام نجی تعلیمی اداروں کو طلبہ کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کو بھی 15 روز کے اندر اپنی آن لائن رجسٹریشن مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جو ادارے مقررہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے انہیں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ ایسے غیر معیاری یا غیر رجسٹرڈ اسکولوں کو بند کرانے کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سفارش بھیجی جائے گی، جبکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ کو قریبی رجسٹرڈ نجی یا سرکاری تعلیمی اداروں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔



















































